Search

Download Urdu Font

Get RSS Updates

Get Email Updates

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

ہمدردی یا بغض کا اظہار E-mail
Written by مولانا محمد شیخو پوری   
Saturday, 26 June 2010 12:56

 

ہمدردی یا بغض کا اظہار

جمعہ 3اپریل کو تمام ٹی وی چینلز وہ وڈیو دکھا رہے تھے جو کسی سازشی ذہن نے انہیں بیک وقت بھیجی تھی۔جس میں مبیّنہ طور پر سترہ سال کی ایک لڑکی کو چند لڑکوں کے ہاتھوں کوڑوں سے پٹتے اور درد سے چلاتے ہوئے دکھا یا گیا تھا۔ فوراًیقین کرلیا گیا کہ یہ وڈیو سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے ۔ وہ لڑکی معصوم اور پاک دامن تھی ۔اس پر کوڑے برسانے والے طالبان اور مولویان تھے ۔ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر ایک عفیفہ کو وحشت و سربریت کا نشانہ بنایا ۔ یہ وڈیو دیکھ کر ان لیڈروں پر شادئ مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئ جو ہر وقت اسلام اور اس کے خادموں کے خلاف غیض و غضب کے اظہار کے بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ چنانچہ 4اپریل کے اخبارات ان لیڈرانِ کرام کے دھواں دھار بیانات سے دہک رہے تھے ۔ کوئی طالبان کو سفاک اور ننگِ انسانیت قرار دے رہا تھا۔ کوئی علماء پر پھبتیاں کس رہا تھا ۔ کسی نے کوڑے مارنے کو غیر انسانی فعل قرار دیا اور کسی نے اشاروں کنایوں میں حدودِ الٰہیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو حقوق ِ نسواںکا سب سے بڑا چمپئین ثابت کرنےکی جدو جہد کررہا تھا ۔ ان لیڈروں میں ایسےبھی تھے جو اس وقت خاموش رہے تھے جب اخبارات میں سندھ کی ایک حاملہ بیٹی کے بارے میں خبر شائع ہوئی تھی کہ اس پر کتے چھوڑے گئے ۔ا س کا حمل زبردستی ضائع کر وایا گیا اور اسے بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا ۔ اس وقت بھی حقوقِ نسواں کے ان علمبرداروں نے احتجاج کرنا مناسب نہ سمجھا جب میڈیا نے بلوچستان کی سردار کے ہاتھوں چار خواتین کے زندہ درگور کیے جانے کی خبر نشر کی ۔ اس المیے کے ایک کردار نے ببانگِ دہل ایوانِ بالا میں اسے قومی روایت قرار دیا ۔ اس شرمناک بیان پر بازپرسی کی بجائے اس سردار کو وزارت کے تمغے سےنواز کر گویا خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔

Read more...
Last Updated on Friday, 27 August 2010 11:59
 
وہ وقت دور نہیں E-mail
Written by اوریامقبول جان   
Saturday, 26 June 2010 12:47

وہ وقت دور نہیں

جب وہ “ الجورا ” کے چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا تو جنگ ِ اوّل کے بعد عالمی طاقتیں مسلم امہ کا شیرازہ بکھیر کر خلافتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کرچکی تھیں ۔ اس کا ملک اس بندر بانٹ میں برطانیہ کے حصے میں آیا تھا ۔ برطانیہ کا اس پر تسلط بھی ایک خفیہ معاہدے “بالفور معاہدہ” کی وجہ سے قائم کیا گیا تھا ۔ اس معاہدے کے تحت تاج ِبرطانیہ نے دنیا بھر کی یہودیوں سے ایک سازشی گٹھ جوڑ کیا تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی اور جس ملک میں رہتے ہونگے جنگ کے زمانے میں برطانیہ کی مدد کریں گے ۔ جس کے نتیجے میں برطانیہ انہیں ان کی مقدس سرزمین میں دوبارہ آباد کرکے ان کی ریاست قائم کرے گا ۔ الجورا کا گاؤں بھی اسی سرزمین میں آتا تھاجہاں 18/دسمبر 1973ء کو ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس نے آئیدہ چل کر اس خطے کے غلام، مظلوم اور مجبور مسالمانوں کے لئے روحانی اور سیاسی سطح پر ایک روشن چراغ کی طرح ابھرنا تھا ۔ شیخ احمد اسماعیل حسن ابھی تین سال کا تھا کہ اس کے باپ کاسایہ سر سے اٹھ گیا ۔

Read more...
Last Updated on Thursday, 26 August 2010 19:24
 
23مارچ مقاصد کیوں فراموش ہوگئے؟ E-mail
Written by مولانا مجاہد الحسینی   
Thursday, 10 December 2009 05:25

23مارچ مقاصد کیوں فراموش ہوگئے؟

قوموں کی باوقار زندگی اور ان کی نشو و ارتقا کا انحصار مقاصد سے وابستہ ہے ۔اگر ان کی جدوجہد اور سعی وکوشش حصول مقاصد کی خاطر ہوتوان کا جذبہ وشوق روز افزوں ہوجاتا اور منزل کے ہرکٹھن مرحلے میں “حدی راتیز ترمی خواں چوں محمل راگراں بینی ”کی کیفیت عزم کوجواں اور ہمت کو بلند کردیتی ہے اور اگرمنزل پرپہنچنے کے بعد مقاصد فراموش کردیے جائیں تو قومیں اضمحلال وانتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستانی قوم کی ہے ۔ 1940ء کو لاہور کے منٹوپارک میں جوقرار داد منظور کی گئی تھی ،جن مقاصد کے حصول کا اعلان کیاگیا تھا، ان کا بڑا مقصد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کی خاطر جدوجہد تھی جو nguage: ER;" dir="ltr"> 1947ء کو کامیابی سے ہمکنار ہو گئی تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آج ہم 68واں یوم قرار داد ِپاکستان ( 23مارچ )منارہے ہیں۔ہرسال اخبارات کے ضخیم نمبروں کے رنگین صفحات میں نمایاں الفاظ کے ساتھ اقرار کرتے ہیں: 23 مارچ تجدید ِعہد کادن۔

Read more...
Last Updated on Thursday, 26 August 2010 19:25
 
مدرزڈے E-mail
Written by مولانا قاری منصور احمد   
Sunday, 03 January 2010 15:25

مدرزڈے

وہ دور ہی سے ہاتھ ہلاتا اور کچھ کہتا ہوا آرہا تھا۔ادھیڑ عمر اور لمبے قد کا آدمی تھا۔اس نے سادہ سے کپڑے پہن رکھے تھے ۔میں نے آگے پیچھے دیکھا وہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا گویا وہ مجھی سے مخاطب تھا مگر میں اس کی بات کیسے سمجھتا ؟وہ جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ انگریزی میں تھا اور مجھے انگریزی کی الف ب یعنی اے بی سی بھی نہیں آتی تھی ۔میں آج پہلی مرتبہ اکیلا باہر نکلا تھا صبح کی تازہ ہوا اور کھلی فضا میں سانس لینے کو۔ورنہ تو پچھلے دس دنوں میں ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہمارے میزبان ساتھ ہوتے تھے اور وہ ہماری ترجمانی کرتے تھے ۔ہم دس سال قبل کراچی سے جدہ اور پھر عمرہ کرتے ہوئے انگلینڈ پہنچے تھے ۔ ہمارا قیام لندن کے ایک مضافاتی قصبے میں تھا۔ Read more...

Last Updated on Sunday, 20 June 2010 14:11
 
عوام کا مطالبہ E-mail
Written by مولانا قاری منصور احمد   
Sunday, 03 January 2010 14:30

عوام کا مطالبہ

حکومت پاکستان کے سب سے بڑے سپورٹر طالبان اور دینی مدارس ہیں۔کیوں کہ جب بھی ملک معاشی عدم استحکام کاشکار ہوتاہے آسان لفظوں میں جب بھی خزانہ خالی ہوتاہے ملازمین کی تنخواہیں ، عمرہ کے مقدس سفر بابرکت قائدین کی حفاظت اور سات سمندر پار سے آنے والے مسافر مہمانوں کی خاطر مدارات میں کمی آ جاتی ہیں توپھر والیان ریاست کودینی مدارس اور طالبان یاد آتے ہیں ۔قبائلی علاقوں میں ایک آدھ آپریشن اور دینی مدارس کے خلاف دوچار بیانات سے چار چھ مہینے گڈی رڑ پیندی اے یاکم ازکم امریکا آنے جانے کاکرایہ ہی مل جاتاہے ۔ایک کیڑے سے فقیر نے خیرات مانگی تو اس نے جواب میں کہا:میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔توپھر اگلے چوک تک ہی چھوڑ آؤ اپنی عمر کمر پر بٹھا کے ،فقیر نے مسکراکے کہا۔ Read more...

Last Updated on Sunday, 20 June 2010 12:26
 

Main Menu

مختصر مگر مؤثر