وہم پرستی
- Details
- Published on Saturday, 26 June 2010 12:50
- Hits: 418
وہم پرستی
کیایہ وہی امت ہے جسے سکھایا گیا تھاکہ نفع نقصان صرف اﷲ کے ہاتھ میں ہے ۔اگر وہ کسی کوشفا دینا چاہے توکوئی جن فرشتہ انسان اور ادلتا بدلتا موسم اسے بیمار نہیں کرسکتا۔اگروہ کسی کوبیمار کرنا چاہے تو سارے حکیم ڈاکٹر اور عامل مل کر اسے شفانہیں دے سکتے ۔علاج کی اہمیت اور جائز عملیات کی افادیت سے انکار نہیں مگر اس کاحکم اور مشیت ہرچیز پرمقدم ہے ۔کوئی ماہر ترین ڈاکٹر اورمہنگی سے مہنگی دوامریض کی حالت میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں لاسکتی ۔اگراﷲکا حکم اورمرضی نہ ہو اور اگروہ شفاکا فیصلہ فرمادے تو خاک کی چٹکی اورپانی کے گھونٹ سے شفامل جاتی ہے ۔کیا یہ وہی امت ہے جسے سمجھایا گیا تھا کہ سورج اورچاند زمین اور آسمان سمندر اور دریا سب اﷲ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں ۔ان کاطلوع اور غروب حرکت اورسکون روانی اور ٹھہراؤان کے اختیار میں نہیں ۔ان کا مالک چاہے توگہرے سمندر کوپایا ب کردے اور اس کاحکم ہوتوخشک اورجامد پتھروں سے چشمے جاری کردے ۔
ہمدردی یا بغض کا اظہار
- Details
- Published on Saturday, 26 June 2010 12:56
- Hits: 446
ہمدردی یا بغض کا اظہار
جمعہ 3اپریل کو تمام ٹی وی چینلز وہ وڈیو دکھا رہے تھے جو کسی سازشی ذہن نے انہیں بیک وقت بھیجی تھی۔جس میں مبیّنہ طور پر سترہ سال کی ایک لڑکی کو چند لڑکوں کے ہاتھوں کوڑوں سے پٹتے اور درد سے چلاتے ہوئے دکھا یا گیا تھا۔ فوراًیقین کرلیا گیا کہ یہ وڈیو سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے ۔ وہ لڑکی معصوم اور پاک دامن تھی ۔اس پر کوڑے برسانے والے طالبان اور مولویان تھے ۔ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر ایک عفیفہ کو وحشت و سربریت کا نشانہ بنایا ۔ یہ وڈیو دیکھ کر ان لیڈروں پر شادئ مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئ جو ہر وقت اسلام اور اس کے خادموں کے خلاف غیض و غضب کے اظہار کے بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ چنانچہ 4اپریل کے اخبارات ان لیڈرانِ کرام کے دھواں دھار بیانات سے دہک رہے تھے ۔ کوئی طالبان کو سفاک اور ننگِ انسانیت قرار دے رہا تھا۔ کوئی علماء پر پھبتیاں کس رہا تھا ۔ کسی نے کوڑے مارنے کو غیر انسانی فعل قرار دیا اور کسی نے اشاروں کنایوں میں حدودِ الٰہیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو حقوق ِ نسواںکا سب سے بڑا چمپئین ثابت کرنےکی جدو جہد کررہا تھا ۔ ان لیڈروں میں ایسےبھی تھے جو اس وقت خاموش رہے تھے جب اخبارات میں سندھ کی ایک حاملہ بیٹی کے بارے میں خبر شائع ہوئی تھی کہ اس پر کتے چھوڑے گئے ۔ا س کا حمل زبردستی ضائع کر وایا گیا اور اسے بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا ۔ اس وقت بھی حقوقِ نسواں کے ان علمبرداروں نے احتجاج کرنا مناسب نہ سمجھا جب میڈیا نے بلوچستان کی سردار کے ہاتھوں چار خواتین کے زندہ درگور کیے جانے کی خبر نشر کی ۔ اس المیے کے ایک کردار نے ببانگِ دہل ایوانِ بالا میں اسے قومی روایت قرار دیا ۔ اس شرمناک بیان پر بازپرسی کی بجائے اس سردار کو وزارت کے تمغے سےنواز کر گویا خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔
23مارچ مقاصد کیوں فراموش ہوگئے؟
- Details
- Published on Thursday, 10 December 2009 05:25
- Hits: 452
23مارچ مقاصد کیوں فراموش ہوگئے؟
قوموں کی باوقار زندگی اور ان کی نشو و ارتقا کا انحصار مقاصد سے وابستہ ہے ۔اگر ان کی جدوجہد اور سعی وکوشش حصول مقاصد کی خاطر ہوتوان کا جذبہ وشوق روز افزوں ہوجاتا اور منزل کے ہرکٹھن مرحلے میں “حدی راتیز ترمی خواں چوں محمل راگراں بینی ”کی کیفیت عزم کوجواں اور ہمت کو بلند کردیتی ہے اور اگرمنزل پرپہنچنے کے بعد مقاصد فراموش کردیے جائیں تو قومیں اضمحلال وانتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستانی قوم کی ہے ۔ 1940ء کو لاہور کے منٹوپارک میں جوقرار داد منظور کی گئی تھی ،جن مقاصد کے حصول کا اعلان کیاگیا تھا، ان کا بڑا مقصد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کی خاطر جدوجہد تھی جو 1947ء کو کامیابی سے ہمکنار ہو گئی تھی۔لیکن المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آج ہم 68واں یوم قرار داد ِپاکستان ( 23مارچ )منارہے ہیں۔ہرسال اخبارات کے ضخیم نمبروں کے رنگین صفحات میں نمایاں الفاظ کے ساتھ اقرار کرتے ہیں: 23 مارچ تجدیدِعہد کادن۔
مدرزڈے
- Details
- Published on Sunday, 03 January 2010 15:25
- Hits: 656
مدرزڈے
وہ دور ہی سے ہاتھ ہلاتا اور کچھ کہتا ہوا آرہا تھا۔ادھیڑ عمر اور لمبے قد کا آدمی تھا۔اس نے سادہ سے کپڑے پہن رکھے تھے ۔میں نے آگے پیچھے دیکھا وہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا گویا وہ مجھی سے مخاطب تھا مگر میں اس کی بات کیسے سمجھتا ؟وہ جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ انگریزی میں تھا اور مجھے انگریزی کی الف ب یعنی اے بی سی بھی نہیں آتی تھی ۔میں آج پہلی مرتبہ اکیلا باہر نکلا تھا صبح کی تازہ ہوا اور کھلی فضا میں سانس لینے کو۔ورنہ تو پچھلے دس دنوں میں ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہمارے میزبان ساتھ ہوتے تھے اور وہ ہماری ترجمانی کرتے تھے ۔ہم دس سال قبل کراچی سے جدہ اور پھر عمرہ کرتے ہوئے انگلینڈ پہنچے تھے ۔ ہمارا قیام لندن کے ایک مضافاتی قصبے میں تھا۔
عبرت آموز آپ بیتی
- Details
- Published on Sunday, 03 January 2010 14:26
- Hits: 842
عبرت آموز آپ بیتی قارئین ! آج حسب وعدہ پہلے ایک نوجوان کاوہ خط ملاحظہ فرمائیں جوقوم یہود اور قادیانیوں کی ملی بھگت کی داستان سناتا ہے،پھر اس پر تفتیشی تبصرہ پیش خدمت کیا جائے گاان شاء اﷲ۔نوجوان کاخط براہ راست یوں شروع ہوتاتھا: میری دوستی ایک قادیانی سے رہی ہے۔یہ بغیر علم کے دوستی تھی یعنی اس سے قبل مجھے علم نہیں تھا کہ وہ قادیانی ہے۔یہ دوستی ایک روزنامہ میں شائع ہونے والے دوستی کے ایک اشتہار کے ذریعے شروع ہوئی ۔گزشتہ دوسال کی دوستی میں اس کی جماعت اورخود اس کے ذریعے سے جوحقائق میرے سامنے آئے ہیں وہ ہوش گم کردینے والے ہیں۔


