حالاتِ حاضرہ

حالات حاضرہ

ہمدردی یا بغض کا اظہار

 

ہمدردی یا بغض کا اظہار

جمعہ 3اپریل کو تمام ٹی وی چینلز وہ وڈیو دکھا رہے تھے جو کسی سازشی ذہن نے انہیں بیک وقت بھیجی تھی۔جس میں مبیّنہ طور پر سترہ سال کی ایک لڑکی کو چند لڑکوں کے ہاتھوں کوڑوں سے پٹتے اور درد سے چلاتے ہوئے دکھا یا گیا تھا۔ فوراًیقین کرلیا گیا کہ یہ وڈیو سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے ۔ وہ لڑکی معصوم اور پاک دامن تھی ۔اس پر کوڑے برسانے والے طالبان اور مولویان تھے ۔ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر ایک عفیفہ کو وحشت و سربریت کا نشانہ بنایا ۔ یہ وڈیو دیکھ کر ان لیڈروں پر شادئ مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئ جو ہر وقت اسلام اور اس کے خادموں کے خلاف غیض و غضب کے اظہار کے بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ چنانچہ 4اپریل کے اخبارات ان لیڈرانِ کرام کے دھواں دھار بیانات سے دہک رہے تھے ۔ کوئی طالبان کو سفاک اور ننگِ انسانیت قرار دے رہا تھا۔ کوئی علماء پر پھبتیاں کس رہا تھا ۔ کسی نے کوڑے مارنے کو غیر انسانی فعل قرار دیا اور کسی نے اشاروں کنایوں میں حدودِ الٰہیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو حقوق ِ نسواںکا سب سے بڑا چمپئین ثابت کرنےکی جدو جہد کررہا تھا ۔ ان لیڈروں میں ایسےبھی تھے جو اس وقت خاموش رہے تھے جب اخبارات میں سندھ کی ایک حاملہ بیٹی کے بارے میں خبر شائع ہوئی تھی کہ اس پر کتے چھوڑے گئے ۔ا س کا حمل زبردستی ضائع کر وایا گیا اور اسے بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا ۔ اس وقت بھی حقوقِ نسواں کے ان علمبرداروں نے احتجاج کرنا مناسب نہ سمجھا جب میڈیا نے بلوچستان کی سردار کے ہاتھوں چار خواتین کے زندہ درگور کیے جانے کی خبر نشر کی ۔ اس المیے کے ایک کردار نے ببانگِ دہل ایوانِ بالا میں اسے قومی روایت قرار دیا ۔ اس شرمناک بیان پر بازپرسی کی بجائے اس سردار کو وزارت کے تمغے سےنواز کر گویا خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔

Read more: ہمدردی یا بغض کا اظہار

ڈاکو اور بتی

ڈاکو اور بتی

یوں تو موبائل فونوں پرمیسج بھیجنے کے لیے باقاعدہ کتابیں چھپ گئیں ہیں اور بعض کوٹیکسٹ بک کا درجہ بھی حاصل ہے ۔اس کے باوجود روزانہ گردش کرنے والے میسج تازہ صورت حال پررواں تبصرے کےساتھ ساتھ عوامی رحجان کی عکاسی بھی کرتے ہیں ۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ مایوسی اور پریشانی کے باوجود پاکستانی عوام کی حس مزاح زندہ ہے اور وہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی جینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔مثلا :چند دن قبل یہ میسج موصول ہوا:

Read more: ڈاکو اور بتی

چلے جملے

چلے جملے

سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ ایک ایسا مفیدجملہ  منظر عام  پرآیاہے جس کی افادیت کے ہزار پہلو ہیں۔ ہمہ قسم الجھے ہوئے مسائل  جوٹیڑھی  کھیرکی طرح قوم یاسیاست دانوں  کے گلے میں اٹکے  نظر آتے ہیں۔ اس جملے سے نرم اور ٹھنڈی میٹھی  کھیر کی طرح ہضم ہوجاتے ہیں ۔ہرالجھن  کی سلجھن  اور ہر ناقابل  حل کاحل  موجودہے۔نامکمل بات مکمل معلوم ہوگی  اور ناقص رائے وزن دار ہوجائے گی۔

Read more: چلے جملے

وہم پرستی

وہم پرستی

کیایہ وہی امت ہے جسے سکھایا گیا تھاکہ نفع نقصان صرف اﷲ کے ہاتھ میں ہے ۔اگر وہ کسی کوشفا دینا چاہے توکوئی جن فرشتہ انسان اور ادلتا بدلتا موسم اسے بیمار نہیں کرسکتا۔اگروہ کسی کوبیمار کرنا چاہے تو سارے حکیم ڈاکٹر اور عامل مل کر اسے شفانہیں دے سکتے ۔علاج کی اہمیت اور جائز عملیات کی افادیت سے انکار نہیں مگر اس کاحکم اور مشیت ہرچیز پرمقدم ہے ۔کوئی ماہر ترین ڈاکٹر اورمہنگی سے مہنگی دوامریض کی حالت میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں لاسکتی ۔اگراﷲکا حکم اورمرضی نہ ہو اور اگروہ شفاکا فیصلہ فرمادے تو خاک کی چٹکی اورپانی کے گھونٹ سے شفامل جاتی ہے ۔کیا یہ وہی امت ہے جسے سمجھایا گیا تھا کہ سورج اورچاند زمین اور آسمان سمندر اور دریا سب اﷲ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں ۔ان کاطلوع اور غروب حرکت اورسکون روانی اور ٹھہراؤان کے اختیار میں نہیں ۔ان کا مالک چاہے توگہرے سمندر کوپایا ب کردے اور اس کاحکم ہوتوخشک اورجامد پتھروں سے چشمے جاری کردے ۔

Read more: وہم پرستی

مدرزڈے

 

مدرزڈے

وہ دور ہی سے ہاتھ ہلاتا اور کچھ کہتا ہوا آرہا تھا۔ادھیڑ عمر اور لمبے قد کا آدمی تھا۔اس نے سادہ سے کپڑے پہن رکھے تھے ۔میں نے آگے پیچھے دیکھا وہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا گویا وہ مجھی سے مخاطب تھا مگر میں اس کی بات کیسے سمجھتا ؟وہ جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ انگریزی میں تھا اور مجھے انگریزی کی الف ب یعنی اے بی سی بھی نہیں آتی تھی ۔میں آج پہلی مرتبہ اکیلا باہر نکلا تھا صبح کی تازہ ہوا اور کھلی فضا میں سانس لینے کو۔ورنہ تو پچھلے دس دنوں میں ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہمارے میزبان ساتھ ہوتے تھے اور وہ ہماری ترجمانی کرتے تھے ۔ہم دس سال قبل کراچی سے جدہ اور پھر عمرہ کرتے ہوئے انگلینڈ پہنچے تھے ۔ ہمارا قیام لندن کے ایک مضافاتی قصبے میں تھا۔

Read more: مدرزڈے