حالاتِ حاضرہ

ماں کو گالی

ماں کو گالی

ہماری ماں جیسی پاک سرزمین  پاکستان  کوگالی دی جاتی ہے اور ہم اسے بھی مسکرا کرنظر انداز کرجاتے ہیں؟امریکہ میں پاکستانی سفارتخانوں کی عمارتوں پرلہراہوا ہریالی  پرچم دیکھ کر آنکھیں  نم ہوجاتی ہیں ۔ملک  کی محبت بیرون  ملک آکر زیادہ جوش مارتی ہے جبکہ اندرون ملک میں گھٹیا سے گھٹیا انسان اپنی ماں کو گالی  برداشت  نہیں کرسکتا جبکہ مادر وطن  کو گالی نظر انداز کرنے کے لئے بے حسی  کا آخری درجہ  چاہئے ۔جس روز پاکستان  کو دی  جانے والی گالی برداشت  کرلی جائے سمجھ لو پاکستان بے جان اور لاغر ہوچکا ہے۔ اسکے  بیٹے  پاکستان بے جان اورلاغر ہوچکا  ہے ۔

اسکے بیٹے  حرام کھانے  اور بہیودہ  سننے  کے عادی ہوچکے  ہیں۔اسکے  جوان  بک چکے ۔اسکی غیرت  کی چادر  تارتارہوچکی۔سترہ  کروڑ عوام  کی ماں پاکستان  کوامریکہ میں گالی دی جاتی ہے؟خاموش  پاکستان کو کہا جاتا ہے ؟خاموش  امریکیوں  نے سچ کہا تھا کہ پاکستانی ڈالروں  کی خاطر اپنی ماں کاسودا  کرنے سے بھی  گریز نہیں کرتا ۔بلاشبہ  پاکستانیوں  کو ڈالروں کی خاطر بیٹیوں  کوبیچتے  دیکھا  گیا ہے ۔مسلمان قیدیوں کے سامنے قرآن پاک فلش  کردیاجاتا ہے ؟خاموش  انکے پیروں میں قرآن پاک رکھا جاتا ہے؟ خاموش پاکستان ،افغانستان ،ایران کے لئے غلیظ  الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ؟ خاموش پاکستان  کے سیاستدان  غیرت گھوٹ کرپی چکے ہیں۔ اپوزیشن  اورحکمران الاماشااﷲ اقتدار میں ہوتے ہیں تو فرعون  بن جاتے ہیں۔اپوزیشن  ہوتے ہیں تو محب وطن  اوررحیم  ہوجاتے ہیں؟اہل مغرب پاکستان کوگالی دے رہا ہے ۔پاکستان کے سیاستدانوں  کی بےغیرتی  پرتھوک  رہا ہے ۔امریکی ٹاک شو پرجب افغانستان ، ایران  اور پاکستان کو انکے ناموں سے پکارنے کی بجائےFکی گالی سے منسوب  کیاگیا تو ذلت  کی پستی  میں  ڈوبتے  ہوئے  جذبات سسکتے  رہے مگر  خاموش  ہماری پہچان  ،ہماری  آن ،ہماری شان ،خداوندتعالی کاعظیم  عطیہ ،قائد  کی محنتوں  کا ثمر،اقبال  کے خواب تعبیر،ہمارے بزرگوں  کی قربانیوں  کاحاصل ،ہمارا  پاکستان،ہماری عظیم  ماں کوایک امریکی  پوری دینا کے سامنے گالی دیتا ہے اورسب خاموش جوماں کاسگا نہیں وہ کسی کاسگا نہیں ہے ۔وطن عزیز کی عزت کوڑیوں  کے بھاؤ بک رہی ہے۔ امریکہ کے مقبول ٹی وی چینل HBOمیں ایک شہرت یافتہ ٹاک شو Real Time with Bill Maherمیں  افغانستان  اور پاکستان کی کوریج  سے امریکہ  لوٹنے  والے  سی این این چینل  کے نمائندہ مائیکل  ویر کاخصوصی انٹریو کیاگیا ۔سی این این کے نمائدہ نے افغانستان اورپاکستان میں طالبان اورالقاعدہ  کی صورتحال پرتفصیلی  گفتگو کی۔ ٹاک شو کے میزبان Bill Maher نے طنز سے کہا کہ پاکستان ،افغانستان اور ایران ہیں۔میں یہ بیہودہ  گالی مکمل  لکھ سکتی ہوں اور نہ ہی زبان سے اداکرسکتی ہوں ۔سیاستدان  تو گالیاں سننے  کے عادی ہیں لہذا پاکستان کو شرمناک گالی دئے جانے پر انہیں شرم نہیں آئے گی۔مائیکل ویرسی این این کا وہ نمائندہ ہے  جس نے پاکستان میں میڈیا کوریج کے دوران پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا انٹرویو کیاتھا۔ اس انٹر ویو کے مطابق پاکستانی  فو ج طالبان قیادت کو امریکہ کی میز پر لاسکتی ہے لیکن بدلے میں امریکہ کو بھی پاک بھارت  کشیدگی کے ایشو میں پاکستان کی حمایت کرنا ہوگی ۔انٹرویو پر منبی رپورٹ سی این این پر نشر کی گئی تھی جبکہ پاکستان  کی ایجنسیوں نے اس خبر  کی تردید کردی تھی ۔بل مہر کے شو میں سی این این کے نمائندہ  نے پاک فوج کے ساتھ انٹرویو کے دوران تین تین کمیرے نصب تھے لہذا تردید  کی گنجائش نہیں ہے ۔پاکستان میں اٹیم بم کو  مسلم بم کہتے ہوئے پروگرام  کے میزبان  بل مہر نے پاکستان اور افغانستان کو F کی گالی  دے دی۔سی این این  کے نمائدہ نے بتایا کہ طالبان کا لیڈر جلال الدین  سویت یونین کے خلاف افغان وار میں سی آئی اے  کے پیرول  پرتھا۔ امریکہ افغانستان میں کبھی  جنگ نہیں جیت سکے گا بال آخر اسے پاکستان اور افغانستان  میں بھی طالبان  کے ساتھ مذاکرات  کرنا پڑیں  گے اور اسکے لئے پاکستان کی فوج مکمل تعاون کے لئے  تیارہے۔اسنے کہا کہ امریکہ افغانستا ن کی مظلوم عورت کو آزاد کرانے گیا تھا جو کہ ایک کھلا جھوٹ ہے ۔امریکہ کے جانے کے بعد بھی افغانستان کی عورت کے برقعہ اور آزادی میں کوئی فرق نہیں آیا۔عراق میں کیمیاوی  ہتھیاروں کی موجودگی کی طرح افغان عورت کی آزادی  کا جھوٹ بھی امریکہ  کو مہنگا  ثابت ہوا ہے ۔شو میں گفتگو  کے دوران کہاگیا  کہ ایران کی عورت  بھی برقعہ اوڑھتی ہے ۔امریکہ کے دوست سعودی  عرب کی عورت  بھی قید ہے لیکن امریکہ سعودی عورتوں کی آزادی کیلئے جدوجہد کیوں نہیں کرتا ؟افغان عورت کی آزادی کاجھوٹ امریکہ کی اکانومی کوتباہ کررہا ہے ۔امریکہ میں بھی تنگ  نظر لوگ بستے ہیں جو امریکی عورت کو گھریلو عورت دیکھنا چاہتی ہے ۔ری پبلکن  پارٹی تنگ نظر ہے ۔سارہ پیلن ری پبلکن  پارٹی میں مقبول اور محبو ب لیڈر سمجھی جاتی ہے جبکہ اسکی پارٹی کی اکثریت  اسے گھریلو عورت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ہرمعاشرے  کا اپنا کلچر  ختم نہیں کیاجاسکتا ۔امریکہ نے جھوٹ بولا اورافغانستان  جاکر پھنس گیا۔ واشنگٹن  میں پاکستان کا سفیر حسین حقنی ہویا اقوام متحدہ میں عبداﷲہارون انکے نزدیک  انگریزی گالیاں معمول کی بات ہوگی مگر ایک غیور قو م کے لئے اسکے ملک کو دی جانے والی گالی معمولی ہوتی ہے اورنہ ہی معمولی البتہ جس ملک پرڈرونز حملے اسکی حکومت کی اجازت سے ہوتے ہیں وہاں گالی سے پہلے اجازت نہیں  لی جاتی ۔چونکہ ڈرونز حملے ازخود اظہار نفرت ہیں لہذا گورے کی گالی پربھی خاموش ۔

سلمان رشدی کی کتاب کی اشاعت  کے بعد ایک نام نہاد مسلمان نے کہاتھا کہ ہم مسلمان متعصب  ہیں۔رائے کا آزادانہ اظہار برداشت نہیں کرسکتے ۔اس محفل میں بیٹھے ایک پاکستانی  نے اس شخص  کو ماں کی گالی دی تو اسنے پاکستان کا گریبان پکڑ کر جواب میں اس پرگالیوں کی بوچھاڑ کردی ۔پاکستانی نے کہا کہ ماں کو گالی پر تجھے جس قدر تکلیف  ہوتی ہے جب کوئی میرے دین اوروطن کی توہین کرتاہے ۔مجھے خوشی ہوئی کہ کم از کم تم اپنی ماں کے توسگے ہو۔ دکھ تو ان مسلمانوں کی دہائی میں ایک پاکستانی کے منہ سے سنا ہوا یہ جملہ امریکی ٹاک شو دیکھ کر یاد آگیا کہ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو کم ازکم اپنی ماں کوگالی برداشت نہیں کرتے وگرنہ؟خاموش۔۔۔۔۔

طیبہ ضیا ء چیمہ

اخبار “نوائے وقت”

13شعبان العظم 1430ھ 5اگست2009ء