حالاتِ حاضرہ
قدرت کا انتقام
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 1220
قدرت کا انتقام
وہ دن دور نہیں جب پرویز مشرف کٹہرے میں کھڑا ہوگا
دنیا میں آج تک جتنے بادشاہ اور خلفا گزرے ہیں خلیفہ ہارون الرشید ان میں بڑی ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ہارون الرشید کا تعلق عباسی خاندان سے تھا۔وہ 22برس کی عمر میں خلیفہ بنا تھا ۔وہ بیک وقت ایک شاندار سپاہی ،ایک عالم،ایک عبادت گزار شخصیت اور ایک عادل حکمران تھا۔بغداد اس کا دارالحکومت تھا ۔ اس وقت بغداد کی آبادی 17لاکھ تھی۔ہارون الرشید کے دور میں تاریخ اسلام کی پانچ بڑی شخصیات بغداد میں مقیم تھی۔ہارون الرشید نے الف لیلی کے نام سے ایک طویل داستان تخلیق کروائی تھی ۔اس داستان میں ہزار کہانیاں تھیں اوریہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس کا ترجمہ دنیا کی تمام زبانوں میں ہوچکا ہے ۔الہ دین کا چراغ ہو ،علی بابا اور اس کے چالیس چور ہوں ،عمروعیار ہو یا امیر حمزہ ہو یہ سب وہ کردار ہیں جوخلیفہ ہارون الرشید نے سن 790میں تخلیق کروائے تھے۔ہارون الرشید کی ملکہ کا نام زبیدہ تھا اور اس نے مکہ معظمہ میں پہلی نہر کھدوائی تھی ۔یہ نہر نہر زبیدہ کے نام سے مشہور تھی ۔اس کے بارے میں کہاجاتاتھا کہ یہ نہر زبیدہ اور ہارون الرشید دونوں کی بخشش کے لیے کافی ہے ۔ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتا تھا۔اس درویش کا نام بہلول دانا تھا ۔بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھا ۔اس کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔وہ عموما شہر میں ننگے پاؤں پھرتا رہتا تھا اور جس جگہ تھک جاتا تھا وہیں ڈیرہ ڈال لیتا تھا۔ لوگ اس کے پیچھے پیچھے پھرتے رہتے تھے ۔ وہ جب کسی جگہ بیٹھ جاتا تھا تو لوگ اس کےگرد گھیرا ڈال لیتے تھے جس کے بعد بہلول دانا بولتا رہتا تھا اور لوگ اس کے اقوال لکھتے رہتے تھے ۔اگر کسی دن اس کا موڈ ذرا سا خوشگوار ہوتا تو وہ لوگوں کو سوال کرنے کی اجازت بھی دے دیتا تھا اور اس کے بعد لوگ اس سے مختلف قسم کے سوال پوچھتے رہتے تھے ۔ہارون الرشید بھی اس کابہت بڑا فین تھا۔ جب کبھی بہلول دانا کا موڈ ذرا سا بہتر ہوتا تھا تو وہ بھی اس کی محفل میں شریک ہوجاتا تھا ۔ایک دن بہلول دانا محل کے پاس آگیا۔ ہارون الرشید کو اطلاع ملی تو وہ اس کے پاس حاضر ہوگیا ۔ بہول نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور غصے سے پوچھا :ہاں !بتاؤ کیامسئلہ ہے ؟ہارون الرشید نے عرض کیا :حضور !جب اﷲتعالی کسی حکمران سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو کیا تحفہ دیتا ہے ؟بہلول دانا نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور بولا :اﷲ اسے درست اور بروقت فیصلے کی قوت دیتاہے ۔ہارون الرشید نے پوچھا :حضور ! اگر اﷲکسی حکمران سے ناراض ہوجائے تو وہ اس سے کون سی چیز چھین لیتا ہے؟بہلول دانا نے چند لمحے سوچا اور ہنس کربولا :فیصلہ کرنے کی قوت ۔ہارون الرشید نے پھر پوچھا :حضور! بادشاہ کوکیسے پتہ چلے گا کہ اﷲاس سے خوش ہے یاناراض ؟
اس سوال پربہلول دانا چند لمحے خاموش رہا ۔اس نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اورہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا :ہارون الرشید! جب اﷲتعالی کسی شخص سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو عزت اورمتبے سے نوازتا ہے لیکن جب اﷲکسی سے ناراض ہوتا ہے تو وہ اس شخص کو نفرت کی علامت بنا دیتا ہے ۔خلق خدا اس سے پناہ مانگنے لگتی ہے اور اس کی زندگی عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔ہارون الرشید کے ماتھے کے شکنین گہری ہوگئیں ۔اس نے ایک لمبی آہ بھری ۔اس کے بعد بہلول سے عرض کیا :اورحضور! جب اﷲکسی بادشاہ سے ناراض ہوجائے تو اس کا انجام کیا ہوتاہے ۔بہلول دانا نے غور سے بادشاہ کی طرف دیکھا ،پھر مسکرایا اور بولا :ہارون !جب کوئی شخص قدرت کے انجام کا شکار ہوتا ہے تو درد رکی ٹھوکریں اس کا مقدر بن جاتی ہیں ۔وہ سونے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو ریت اس کی مٹھی میں آتی ہے ۔وہ اپنے تئیں اچھا فیصلہ کرنا چاہتا ہے لیکن قدرت اسے بے عزت کردیتی ہے ۔اس کے اپنے بھی پرائے ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی زندگی سے تنگ آآکر اپنا گلہ خود ہی گھونٹ دیتا ہے ۔
میں نے یہ ساری تمہید بہلول دانا کے ان درج بالا جملوں کے لیے باندھی ہے ۔آپ بہلول دانا کے ان اقوال کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اپنی تاریخ پرنظر دوڑائیں تو آپ کو سابق صدر پرویز مشر ف کی شخصیت ان جملوں پر پوری اترتی ہوئی محسوس ہوگی۔آپ کو پرویز مشرف قدرت کے اسی انجام کا شکار دکھائی دے گا ۔ آپ دل پرہاتھ رکھ کر بتایے وہ پرویز مشرف جو نوسال تک اس ملک کے سیاہ و سفیدکا مالک رہا۔جس کا نوبرس تک پورے ملک پر طوطی بولتا رہا ۔جس کے دنیا کی سپرطاقتوں سے رابطے تھے ،جو ایک مصافحے سے شہرت کی بلندیوں پرپہنچ گیاجوامریکہ سے لے کر افریقہ تک اور مشرق وسطی سے لے کر بھارت تک مشہور تھا ۔جسے دنیا لبرل ،ماڈرن اور سیاسی جرنیل کہتی تھی۔جس کے دور میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان آرہے تھے۔پاکستانی معیشت کا گراف اوپر جارہاتھا اور آج سے دو برس پہلے کوئی سوچ سکتا تھا اس پرویز مشرف کا انجام اتنا برا ہوگا کہ وہ مارا مارا پھرے گا ۔وہ دنیا میں نفرت کی علامت بن جائے گا ؟نہیں
لیکن پھر اس پرویزمشرف سے چند غلط فیصلے ہوئے ۔اس نے قدرت کے اصولوں کو توڑنے کی کوششیں شروع کردیں ۔اس نے جب اﷲاور اس کے رسول ﷺکے احکامات کی پامالی شروع کر دی۔ اس نے اسلام دشمنوں کو دوست کہنا شروع کردیا ۔وہ امریکا کی گود میں کھیلنے لگا۔ اس نے اﷲ کے گھروں پرفوج چڑھا دی ۔جامعہ حفصہ کی طالبات کے خلاف آپریشن شروع کردیا اور اس نے قدرت کی ناراضگی مول لے تو پھر وہ قدرت کے انتقام کا شکار ہوگیا ۔آپ غور کریں وہ مشرف جس کے ایک حکم پر درجنوں قبائل شہید کردیے گئے ۔جس کی خواہش پر قبائلیوں پربم برسائے گئے ۔جس کے ایک فرمان سے سینکڑوں بے گناہ اور عام پاکستانی شہری امریکا کے حوالے کردیے گئے ۔جس کے حکم پرجہادی تنظیموں پرپابندیاں لگ گئیں ۔جس کی وجہ سے اسلام پسند لوگ دہشت گرد قرار پائے۔ جس کے ایک اشارے سے کراچی شہر انسانی لہو میں ڈوب گیا ۔جس کے آرڈر سے باریش نوجوانوں کے خلاف چھاپے شروع ہو گئے ۔ جس کی خواہش پرخواتین کو آزادی دے دی گئی جس کے ایک حکم پر ملک بھر میں شراب نوشی،رقص وسرود، جم کلب اور بارسج گئے۔ جس کے حکم پر اسلامی حدود کوپامال کیاجانے لگا اورجس کے دور میں فحاشی اور عریانی کو فروغ دینے کے لیے حقوق نسواں جیسے بل منظور کرکرلیے گئےجس کی خواہش پرآئین پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیاگیا ۔جس کے اشارے پر جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کوکیمیکل بموں سے اڑا دیاگیا ۔وہ پرویز مشرف جوخود کو اسلامی دنیا کا لیڈردیکھنا چاہتا تھا ،جولبرل ازم اور آزادی نسواں کے نام پر یورپ کے دل میں اترنا چاہتا تھا۔وہ مشرف جواقتدار کو طول دینے کے لیے امریکا کی چاپلوسی کرتا رہا ۔جو بش کو اپنا باس سمجھتا تھا جو کمال اتاترک کو رول ماڈل خیال کرتا تھا اور وہ مشرف جو شاہراہ دستور پر کھڑے ہوکر فضا میں مکالہرا یہ کہتا تھا :دیکھ لی طاقت ،اسے کہتے ہیں طاقت ۔جوکہتا تھا: یونیفارم میری کھال اورفوج میرا بازو ہے ۔جوکہتا تھا :پاکستان کی زمین دہشت گردوں کے لیے تنگ کردوں گا ۔جوکہتا تھا :افتخار چودھری دوبارہ کبھی نہیں آسکتا اور جوکہتا تھا :بی بی اور میاں کا اب اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں ۔اور وہ مشرف جب قدرت کی ناراضگی اور انجام کا شکار ہوا تو کیاہوا؟وہ اپنے ہی ملک میں نفرت کی علامت بن گیا۔عوام اسے امریکا کا کاسہ لیس سمجھنے لگے ۔شہر شہر اور گلی گلی اس کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہونے لگے ۔وہ مشرف جب قدرت کے شکنجے میں آیا تو اسی ملک کے باشندے ایوان صدر اور جی ایچ کیو کے سامنے کھڑے ہوکر گو مشرف گو مشرف گو کے نعرے لگانے لگے ۔وہ مشرف جو یونیفارم کو کھال اور فوج کو بازو سمجھتا تھا جب قدرت کے انتقام کا شکارہوا تو نہ صرف اسے اپنی کھال اتار نا پڑی بلکہ جب وہ استعفی دے رہا تھا تو کسی جرنیل ،کسی کرنیل ،فوج کے کسی سپاہی اور کسی دوست ،کسی یار نے اس کے حق میں ہمدردی کے وہ بول نہیں بولے اور وہ بے بسی کی تصویر بنا اقتدار کی راہداریوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ آپ قدر ت کا مکافات عمل دیکھئے وہ مشرف جو شاہراہ دستور پر کھڑے ہوکر ،مکلے لہرا کر اور کراچی کی فٹ پاتھوں کو انسانی خون سے رنگین کرکے طاقت ظاہر کرنا چاہ رہا تھا اسی مشرف کے خلاف 9جون 2008ءکو اسی شہر سے لانگ مارچ کا آغاز ہوا ۔یہ لانگ مارچ 13جون کو اسلام آباد پہنچا اور اسی شاہراہ دستور ،اسی ایوان صدرکے سامنے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جمع تھا۔چار لاکھ سے زائد لوگ اسی مشرف کے خلاف ظالم ڈر کر بھاگ رہا ہے،پکڑ وپکڑ و بھاگ رہا ہے کے نعرے لگارہے تھے ۔وہی مشرف جوپاکستان میں بے نظیر بھٹو اورمیاں نوازشریف کے مستقبل کو تاریک قرار دے رہا تھا آج ایک سال بعد اسی ملک میں محترمہ کی پارٹی برسر اقتدار ہے اورمیاں نواز شریف پنجاب جیسے بڑے صوبے پر حکومت کررہے ہیں اور وہی مشرف جوامریکا ،برطانیہ اوریورپ کواپنا دوست کہتے تھکتا نہ تھا آج جب قدرت کے انتقام کا شکار ہوا تو یہی دوست اس سے بیگانہ ہوگئے اورانہوں نے یہاں تک کہناشروع کردیا مشرف پاکستانی سٹییزن ہے۔
آپ قدرت کا عدل دیکھئے وہ مشرف جس نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کردیاتھا آج وہی افتخار محمد نہ صرف اس ملک کا چیف جسٹس ہے بلکہ پرویز مشرف کو عدالت طلبی کے نوٹس جاری کررہا ہے ۔آپ قدرت کا یہ اصول بھی ملاحظہ کیجیے ۔وہ مشرف جس نے لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے ننھے طالب علموں پرپانی بندکردیا۔جس نے ان کی گیس اور بجلی بندکردی تھی ۔جس نے ان معصوم طلبہ و طالبات پرزمین تنگ کردی تھی اور جس نے بے گناہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کرامریکا کے حوالے کردیاتھاآج وہی مشرف غیروں کے ٹکڑوں کا محتاج ہے ۔وہ اسلام آباد میں چارکنال کے فام ہاؤس میں رہنے کا متمنی ہے لیکن دیار غیر میں قید ہوکر رہ گیاہے ۔میں آج جب سپریم کورٹ کی طرف سے پرویز مشرف کی عدالت طلبی کے نوٹس کو دیکھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پرویز مشرف کے خلاف قدر ت کے انتقام کی ابتدا ہے ۔ابھی صرف ایک نوٹس جاری ہواہے ۔ابھی پرویز مشرف کی گردن پربے تحاشہ حساب باقی ہیں اور قدرت کا اصول ہے وہ جب کسی شخص سے ناراض ہوتی ہے ۔جب کسی کا انتقام لینے پرآتی ہے تو اس کے ایک ایک گناہ ایک ایک ظلم اور ایک ایک غلطی کا حساب چکاتی ہے ۔آپ اگر پرویز مشرف کے مظالم کی فہرست بنائیں تو آپ کو معلوم ہوگا مشرف پر بھی بے تحاشہ حساب باقی ہے ۔مشرف پرابھی بگٹی کا قتل باقی ہے ۔ابھی کراچی کے شہیدوں کاخون باقی ہے۔ابھی قبائلیوں کا لہوباقی ہے ۔ابھی امریکی عقوبت خانوں میں سینکڑوں پاکستانیوں پرڈھایا جانے والا تشدد باقی ہے ۔ابھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی اڑھائی ہزار طالبات کی چیخیں ،سسکیاں اورآہیں باقی ہیں۔ابھی بہت کچھ باقی ہے اورقدرت کی کتاب میں یہ سارے ظلم لکھے ہیں۔ ابھی ان مظالم کاحساب ہونا ہے ۔ابھی تو قدرت کو ناراضگی ۔قدرت کے انتقام اور قدرت کے مکافات عمل کی شروعات ہیں۔ہمیں قومی امید ہے وہ دن زیادہ دور نہیں جب قدرت پرویز مشرف کا حساب بے باق کردے گی ۔
یاسر محمد خان
اخبار “ضرب مومن ”
جمعہ 8تاجمعرات 14شعبان 1430ھ بمطابق جمعہ 31جولائی تاجمعرات 06اگست2009ء


