حالاتِ حاضرہ

ملکی تاریخ کا نازک لمحہ

ملکی تاریخ  کا نازک لمحہ

یہ روالپنڈی  اور اسلام آباد  کی ایک کہر آلود شام تھی ۔یہ شام پاکستانی تاریخ کی ایک بھیانک اور سیاسی ادوار کے لیے خون آلود  واقع ہوئی۔ اس شام راولپنڈی میں پاکستان  کی دوبڑی سیاسی جماعتوں  کے دو بڑے جلسے تھے ۔ایک جلسہ صادق آباد میں تھا جس میں میاں محمد نواز شریف نے خطاب کرنا تھا جبکہ دوسرا جلسہ لیاقت باغ  میں تھاجس میں محترمہ بے نظیر بھٹو تشریف لا رہی تھیں ۔بے نظیر بھٹو نے اس جلسہ سے خطاب کیا اور خطاب کے بعد جب جلسہ گاہ سے باہر نکلیں تو لیاقت باغ کے گیٹ پر شرپسند عناصر نے محترمہ بے نظیر بھٹو  پر فائر کھول  دیا۔ بعد ازاں انہیں جنرل ہسپتال  لایا گیا اور وہ نامعلوم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی  سے جاملیں ۔جس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو پر فائرنگ کی گئی ٹھیک اسی وقت لیاقت باغ کے گیٹ پر ایک زوردار دھماکہ بھی ہوا جس سے 22افراد جاں بحق ہوگئے۔یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا اور اس روز پاکستانی سیاست کا ایک اور باب بند ہوگیا۔

میں اس واقعے پربات کرنے سے پہلے آپ کو 12دسمبر 2007ء کا ایک واقعہ  بتانا چاہتا ہوں ۔میں 12دسمبر کوجج کیلئے روانہ ہوا تھا۔ یہ میرا پہلا جج تھا لہذا اس سفر کے دوران بے شمار تجربات ہوئے ۔ان میں روحانی وارداتوں  کے علاوہ لا تعداد نفسیاتی ،جسمانی اور معاشرتی تجربات بھی شامل تھے ۔میں 12دسمبرکی رات مسجدنبوی میں حاضر تھا تومجھے مفتی صاحب کا فون آگیا ۔مفتی صاحب پاکستان کے بہت بڑے عالم دین ہیں ،وہ سماجی بہبود کے ایک بڑے اور قومی ادارے کے سربراہ بھی ہیں ۔یہ ان کی دعاؤں اور محبتوں کانتیجہ ہے آج میرے جیسے بے شمار دنیا دار،گنہگار اورحریص لوگ دین کی طرف جھک رہے ہیں۔ میں نے مفتی صاحب سے درخواست کی وہ مسجد نبوی میں تشریف لے آئیں اورہم رسول اﷲکی دہلیز پرچند لمحے اکٹھے گزار لیں۔مفتی صاحب فورا تیار ہو گئے وہ تشریف لائے توبڑے علیل اور غمزدہ دکھائی دیے ہم نے سب سے پہلے رسول اﷲﷺکی خدمت میں سلام پیش کیااور اس کے بعد میں نے ان سے ان کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو وہ یاس بھری آواز میں بولے :میں ملکی حالات کی وجہ سے پریشان ہوں ۔میں خاموشی سے سننے لگا۔وہ بولے: وانا آپریشن ہماری تاریخ کی سب سے بڑی حماقت تھی۔ حکومت کی یہ غلطی بہت جلد پاکستان کو افغانستان  اور عراق بنادے گی۔میں خاموش رہا،مفتی صاحب نے فرمایا میں مجاہدین  کوجانتا ہوں ،یہ سنگل ٹریک مائینڈ ڈ لوگ ہیں ،یہ لوگ اپنے موقف میں انتہائی اٹل اور بے لچک  ہیں،ہمیں ان لوگوں کو چھیڑنے سے پہلے افغانستان میں روس اورعراق میں امریکہ کا حشر دیکھ لینا چاہیے تھا ۔مجاہدین نے آج بھی افغانستان اورعراق میں امریکہ کو ناک سے لکیریں  نکالنے پرمجبور کردیاہے ۔وہ رکے اور دوبارہ بولے :“آپ حرم شریف میں  حکومت اورسیاستدانوں کے لیے دعا کریں اﷲتعالی ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ان لوگوں کو ہدایت دے ورنہ مجھے ملک  شدید خطرات کا شکار دکھائی دے رہا ہے ۔مفتی  صاحب  خاموش ہوگئے ہم نے رسول اﷲکے روضہٴ اقدس پردعا کی اور اس کے بعد حج کے لیے حرم پاک چلے گئے۔

آج28دسمبر ہے اورمجھے مفتی صاحب کی باتیں  رہ رہ کر یاد آرہی ہیں۔اس وقت گڑھی خدابخش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی میت  کی تدفین  جاری ہے۔ہزاروں کا اجتماع ہے ،لوگ سرپیٹ رہے ہیں،آہیں  اوردھاڑیں مار مار کر رورہے ہیں ۔آج مجھے مفتی صاحب کی باتیں سوفیصد درست معلوم ہورہی ہیں ۔مجھے محسوس ہورہا ہے پاکستان اس وقت انتہائی نازک حالات سے دوچارہے جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تجہیز وتدفین  کے بعد حالات کی سنیگنی  میں مزید اضافہ یقینی  دکھائی دیتا ہے اور یہ حالات  ثابت کرتے ہیں پاکستان پوری طرح دشمنوں کے نرغے میں آچکا ہے ۔پچھلے چندماہ سے پورا ملک خودکش  حملوں سے گونج رہا ہے حتی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عید کی نماز میں دھماکہ  ہوا اور اس میں درجنوں نمازی شہید ہوگئے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پوری جوڈیشری قتل کردی گئی ، پاکستان  کی تاریخ میں پہلی بار دوماہ سے عدالتیں معطل  اورجج محبوس  ہیں،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چھاؤنیوں  میں خودکش  حملے ہورہے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں پاکستانی چھاؤنیوں  غیر محفوظ ہوچکی ہیں،کامرہ میں  بچوں کی بس پرخودکش حملہ ہوا جس میں درجنوں بچے شدید زخمی ہوگئے۔ان خودکش حملوں کے باعث پاکستان کے تمام ادارے ،حکومتی عہدیدار ،وزرا، مشیراورغیرملکی سفیر محفوظ  ہوچکے ہیں جبکہ ان حالات میں سول سوسائٹی  نےپاکستانی سیاستدانوں کو آخری موقع دیا تھالیکن بدقسمتی  سے یہ موقع بھی ضائع کردیاگیا۔

9مارچ اور3نومبر کوججوں ،وکلاء اورمیڈیا نے ایک تحریک کی بنیاد رکھی تھی اور یہ تحریک دیکھتے   ہی دیکھتے   ملک کے بچے بچے تک پہنچ گئی تھی ۔یہ ایک  ایسا تاریخی اورقیمتی لمحہ تھا جس میں اگر ہمارے سیاستدان کریکٹر کامظاہرہ کرتے تو اس سے نہ صرف فوج پاکستان کی سیاست سے ہمیشہ  ہمیشہ کیلئے نکل جاتی بلکہ ملک بھی ترقی،استحکام  اور روشن خیالی کی شاہراہ پرآجاتا۔اگر ہمارے سیاستدان افتخار محمد چودھری  جیسی استقامت ،نیک نیتی اورخلوص کا مظاہر ہ کرتے ۔اگر یہ لوگ ایک بار ذاتی اقتدار،کاروبار، اکاؤنٹس اور پارٹی سیاست سے بالاتر ہوکر سوچتے اوراگریہ ایک بار پاکستان کے عوام کے لیے قدم اٹھاتے تو ہم لوگ نئے پاکستان میں داخل ہوجاتے لیکن افسوس تاریخ کے اس نازک لمحے میں بھی یہ لوگ اکاؤنٹس  ڈیزل کے کوٹول  اور پارٹی  کے دباؤ سے باہر نہ نکل سکے اوریوں ججوں اوروکیلوں  کی کاشت شدہ تحریک  ضائع ہوگئی اور اس پرمزید یہ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اورمیاں نوازشریف  جوپاکستانی تاریخ میں پہلی بار مل کر جمہوریت  کے لیے کوشاں تھے ان کی اس جدوجہد اورکاوش کو کچھ نادیدہ طاقتوں نے محترمہ  کے قتل کی صورت میں لپیٹ دیا اور پاکستان کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیاہے جس کے شعلے کراچی سے لے کر طور خم تک پورے ملک کواپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔

آج مجھے ایسامحسوس ہوتا ہے بے نظیر کا قتل ہمارے دشمن کا ایسا کاری وار ہے جس کے اثرات آیندہ چند دنوں میں ظاہر ہوں گے ۔ابھی محترمہ کی میت لحد میں  رکھی جارہی ہے اورکچھ عناصر یہ بھی نعرہ لگاچکے ہیں :ایک اورسندھی وزیراعظم   کو پنجاب میں قتل کردیا گیا۔ آپ اس نعرے کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد ان الفاظ پر غور کریں تو آپ کو ساری حقیقت واضح ہوتی نظر آئے گی۔

اب میں آپ کو ایک دوسرے نکتے کی طرف لے کرجانا چاہتا ہوں ۔میں 25دسمبر کو حج سے واپس آگیا تھا ۔میں نے واپسی پر پرانے اخبارات دیکھے تو مجھے معلوم ہوا میاں نوازشریف کے جلسے بڑے بھرپور جارہے ہیں جبکہ بے نظیر بھٹو کی الیکشن کمیشن بھی کامیاب جارہی ہے ۔میں نے وجہ معلوم کی تو پتہ چلا میاں نواز شریف  نے معزول ججوں  کی بحالی، آزاد عدلیہ اور فوج کی سیاست سے بے دخلی کو اپنا سیاسی ایجنڈ ا بنا رکھا ہے چنانچہ لوگ خودکش حملوں کے خطرے کے باوجود ان کے چلسوں میں شریک ہورہے ہیں ۔میاں نواز شریف کی یہ مقبولیت ثابت کرتی تھی لوگ نہ صرف دل کی گہرائیوں سے معزول جوڈیشری  کی عزت کرتے ہیں بلکہ وہ ججوں کا نام لینے والے سیاستدانوں تک کا ساتھ دینے پرتیار ہیں۔عام شہریوں کی یہ محبت  ایک بہت بڑی سیاسی قوت ہے جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی الیکشن  مہم کی کامیابی  کی وجہ بڑی واضح تھی ۔اس میں کوئی شک نہیں پیپلز پارٹی  کا بہت بڑا ووٹ بینک ہے لیکن محترمہ کی الیکشن  مہم کی کامیابی کی ایک دوسری وجہ بھی تھی ،پاکستانی  عوام فوج کے سیاست  میں عمل دخل  سے تنگ آچکے تھے  اور وہ اس سے چھٹکارا  چاہتے تھے، عام آدمی سیاست میں فوج کے کردار  سے خائف  تھا اور وہ جمہوریت  کی بحال کے لیے کوشاں تھا چنانچہ پاکستان کی دوبڑی سیاسی  پارٹیوں  کے لیڈروں کو ایک بار پھر عوام میں مقبولیت حاصل ہورہی تھی  جبکہ حکومت کے کارپردازان ان جلسوں پر انگشت  بدندان تھے اور عام پاکستانی  مسلم لیگ  ق سے نفرت کرتا دکھائی  دے رہا تھا ۔اس نفرت کی وجہ شاید کچھ اور بھی ہولیکن  میں سجھتا ہوں اس نفرت کی وجہ موجود حکومت کی غلط پالیسیاں تھیں۔

عام پاکستانی یہ سمجھتا ہے مسلم لیگ ق صدر پرویز مشرف کی جماعت ہے اورصدر پرویز مشرف  کی مقبولیت  کا گراف پچھلے  ایک سال کے دوران بری طرح نیچے آیا تھا ۔لوگ صدرپرویز مشرف کو امریکا کا کاسہ لیس سمجھتے ہیں لہذا وہ صدرپرویز مشرف کے حمایتی ٹولے سے بھی نفرت کرنے لگے ہیں ۔اس کی  دوسری وجہ جنوبی وزیرستان آپریشن لا ل مسجدآپریشن  جج صاحبان  کی معظلی اور اس کے بعد عدلیہ اور میڈیا  پر پابندی تھی  لہذا پاکستان کا عام شہری  ان حالات میں ان دونوں لیڈروں کو سپورٹ کرنا چاہتا تھا اورپاکستان میں حقیقی جمہوریت کا خواب دیکھ رہا تھا ۔ان حالات میں محترمہ بے نظیر بھٹو  اورمیاں نواز شریف  کا گٹھ  جوڑ بہت  بڑی سیاسی تبدیلی  کا پیش خیمہ تھا لہذا  اس کا نتیجہ  تھا کچھ نادیدہ طاقتیں ان دونوں لیڈروں کے اقتدار میں آنے سے خائف  تھیں اور قرین قیاس تھا موجودہ الیکشن کے بعد جمہوری  حکومت قائم ہوجاتی ۔عوامی حکومت بیرونی دباؤ کوخاطر میں نہ لاتی اورپاکستان امریکہ اور یورپی ممالک کے ہاتھوں سے نکل جاتا لہذا نادیدہ ہاتھوں نے اس ساری جدوجہد اس ساری کاوش اور اس سارے عمل کی بساط ہی لپیٹ  دی اور پاکستان  کو ایک ایسی دلدل میں پھینک  دیاجس اگرہم نکلنا  بھی چاہیں تونہیں نکل سکیں  گے۔

میں جوں ہی بے نظیر کے قتل پرغور کرتاہوں  تومجھے اس کی ایک اوروجہ بھی دکھائی دیتی ہے ۔ہمارا دشمن  ہماری صفوں میں نفرت کے بیج بونا چاہتا ہے ۔وہ پاکستان کو منقسم  کرنے کے خواب  دیکھ رہا ہے ۔آپ اگر اس واقع پر غور کریں  تو پتہ چلتا ہے اس واقعے  کے لیے ایک ایسے مقام کا چناؤ کیا گیا ہے جس سے نفرت کی ایک بہت بڑی  دیوار حائل  کی جاسکتی تھی ۔محترمہ  بے نظیر بھٹو  کا تعلق سندھ سے تھا لہذا ان کے قتل سے سندھ اور پنجاب میں نفرت  کے بیج بوئے جاسکتے تھے چنانچہ اس کے لیے  لیاقت باغ کے مقام کا چناؤ کیاگیا تاکہ سندھیوں میں یہ تاثر  دیاجاسکے  کہ محترمہ کو پنجابیوں  نے قتل کیاہے۔ہمارے دشمن کا یہ خواب تھا اس سے دونوں صوبوں کے درمیان  نفرت جنم لے گی اوریہ نفرت بعد ازاں سندھ اورپنجاب کی تقسیم کرنے کا باعث بنے گی اور آپ آج کراچی اورلاڑکانہ کے حالات دیکھ سکتے ہیں۔

میں اس وقت وفاقی دارالحکومت  اسلام آباد میں ہوں اورمجھے مفتی صاحب کے وہ الفاظ رہ  رہ کریاد آ رہے ہیں اور میں سوچ رہا ہوں  اگرہم نے اس نازک موقع پردانشمندی  کامظاہر ہ نہ کیا ،ہم دشمن کی چالوں میں آگئے توخدانخواستہ  پاکستان کوکچھ  بھی ہوسکتا ہے ۔ہمیں ان  نازک حالات میں  پنجابی ،سندھی ،بلوچی اورپٹھان سے نکل کر دشمن کی ان سازشوں کا قلع قمع کرنا ہوگا ۔ہمیں وطن کی سلامتی اور قوم  کی یکجہتی  کے لیے کردار اداکرنا ہوگا۔ ہم ایک ایسے نازک دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں جو ش سے  زیادہ ہوش کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ہرقدم پھونک  پھونک کررکھنا ہوگا اورہمیں اپنے وطن کی سلامتی کے لیے یہ قربانی  دینا ہوگی۔

یقین کیجیے ! اگرہم نے اس موقع پردانشمندی  کا مظاہرہ نہ کیا تو دشمن  اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائے گا اورہم ہاتھ پرہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔میں ان سطور  کے ذریعے  ہرمحب وطن اوردرد دل رکھنے والے پاکستانی شہر ی سے گزارش کروں گا وہ اپنے وطن کے استحکام اورسلامتی  کے لیے کردار اداکرے اور دشمن کی ناپاک سازشوں کاقلع قمع کرے ۔اگر ہم آج بھی دشمن کی ان سازشوں کونہ سمجھے تو ہماری لاشیں اٹھانے والا کوئی ہوگا اور نہ ہی تجہیزوتدفین کرنے والا اورہماری لاشوں سے گدھ گوشت نوچیں  گے ۔میرا خیال ہے یہ ایک ایسا وقت ہے جب ہمیں ہمت ،یکجہتی  اور ہوش کی ضرورت ہے ۔اگرہم اس نازک وقت میں بھی متحدنہ ہوئے تو ہم ایک ایسے اندھے کنویں میں گرجائیں گے جس سے نکلتے نکلتے  ہمیں ہزاروں برس لگ جائیں گے۔

یاسر محمد خان

اخبار “ضرب مومن ”

24تا30 ذی الحجہ 1428ھ مطابق 04تا11جنوری 2008ء