حالاتِ حاضرہ
23مارچ مقاصد کیوں فراموش ہوگئے؟
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 458
23مارچ مقاصد کیوں فراموش ہوگئے؟
قوموں کی باوقار زندگی اور ان کی نشو و ارتقا کا انحصار مقاصد سے وابستہ ہے ۔اگر ان کی جدوجہد اور سعی وکوشش حصول مقاصد کی خاطر ہوتوان کا جذبہ وشوق روز افزوں ہوجاتا اور منزل کے ہرکٹھن مرحلے میں “حدی راتیز ترمی خواں چوں محمل راگراں بینی ”کی کیفیت عزم کوجواں اور ہمت کو بلند کردیتی ہے اور اگرمنزل پرپہنچنے کے بعد مقاصد فراموش کردیے جائیں تو قومیں اضمحلال وانتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستانی قوم کی ہے ۔ 1940ء کو لاہور کے منٹوپارک میں جوقرار داد منظور کی گئی تھی ،جن مقاصد کے حصول کا اعلان کیاگیا تھا، ان کا بڑا مقصد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کی خاطر جدوجہد تھی جو 1947ء کو کامیابی سے ہمکنار ہو گئی تھی۔لیکن المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آج ہم 68واں یوم قرار داد ِپاکستان ( 23مارچ )منارہے ہیں۔ہرسال اخبارات کے ضخیم نمبروں کے رنگین صفحات میں نمایاں الفاظ کے ساتھ اقرار کرتے ہیں: 23 مارچ تجدیدِعہد کادن۔
سوال یہ ہے کہ کس عہد کی تجدید ؟اگرعہد سے مراد وہ قرار داد ہے جو 1940ء کو متحد ہ بنگال کے مولوی فضل حق نے پیش کی تھی تو جس علاقےکے نمایندے نے وہ قرار داد پیش کی تھی وہ خطہ اور علاقہ پاکستان کے نقشے پرابھرنے کے بعدکیوں نظروں سے اوجھل ہوگیا؟اس کے اسباب ومحرکات کیاتھے ؟ اسی عہد واقرار کے سلسلے میں مجھے 9اپریل 1942ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبران کے کنونشن کے تیسرے اورآخری اجلاس کی کاروائی یاد آگئی جو عرب کالج دہلی پنڈا ل میں بعد نماز عشاء منعقد ہواتھا ۔مولانا قاری محمد طیب رحمہ اﷲمہمتمم دارالعلوم دیوبند کے بھتیجے اورمولانا قاری محمد طاہر دیوبندی کے فرزند مولانا قاری محمد زاہد قاسمی رحمہ اﷲ کی تلاوت قرآن کریم سے جس کی کاروائی کا آغاز ہوا تھا ۔نواب زادہ لیاقت علی خان کے اعلان کے ساتھ نواب افتخار حسین ممدوٹ نے اس کنونشن میں شرکا کا خیرمقدم کیاتھا۔اس اجلاس میں بھی پاکستان کے لیے ایک مقصد عہد ہواتھا جو تاریخی فیصلہ زیر عنوان عبدالواحد قریشی نے اپنی کتاب کے 286تا 289 پردرج کیاہے اور جسے قومی کمیٹی برائے صدسالہ تقریبات کے موقع پروزارت تعلیم حکومت پاکستا ن اسلام آباد نے شا ئع کیاتھا ۔اس عہد کی روئیدار درج ذیل ہے ۔
اس وقت ایک بج چکا تھا۔نواب زادہ لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ کنونشن میں شریک ہونے والے مرکزی اورصوبائی اسمبلیوں کے تمام ممبروں نے حصول پاکستان کے لیے ایک حلف نامہ پردستخط کیے ہیں ۔یہ دستخط شدہ حلف نامے مجھے دے دیے گئے ہیں جو اراکین اسمبلی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے ہیں وہ اپنے دستخط شدہ حلف نامے بعد میں بھیج دیں گے ۔نواب زادہ صاحب نے یہ بھی اعلان کیا کہ بعض ممبران نے اپنے حلف ناموں پراپنے خون سے دستخط کیے ہیں ۔آپ نے حلف نامہ کا مضمون پڑھ کر سنایا جومندرجہ ذیل ہے:
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ۔قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین ۔کہہ دو کہ میری نماز میری قربانی میرا جینا اور میرامرنا سب اﷲرب العالمین کے لیے ہے ۔میں رکن مسلم لیگ پارٹی صوبائی لیجسلیٹو اسمبلی ،کونسل ،صوبہ اپنے اس پختہ عقیدہ کا اعلان کرتا ہوں کہ برصغیر ہندمیں بسنے والی مسلم قوم کی نجات ،اس کی سلامتی ،اس کا تحفظ اور اس کا مستقبل حصول پاکستان میں مضمر ہے اورپاکستان ہی اس وسیع بّراعظم کے پیچیدہ دستوری مسائل کاواحد منصفانہ ،باوقار اورمعقول حل ہے اس کے ذریعے یہاں بسنے والی تمام قوموں اورفرقوں کو امن آزادی اورخوشحالی حاصل ہوسکتی ہے ۔میں یہ صمیم قلب اقرار کرتا ہوں کہ اس مقصد عزیز یعنی پاکستان کوحاصل کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے جوہدایات واحکام جاری کیے جائیں گے بلاپس وپیش کمال رضامندی کے ساتھ ان کی پوری پوری تعمیل کروں گا ۔اس امر کا مزید یقین کامل رکھتے ہوئے کہ میرا مقصود ومدعا حق وانصاف پرمبنی ہے ،میں عہد کرتا ہوں اس راہ میں جوخطرات اور آزمائشیں پیش آئیں گی اورجن قربانیوں کا مطالبہ ہوگا انہیں برداشت کروں گا “ربنا افرغ علینا صبر اوثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین ” اے پروردگار ہمیں صبر واستقامت عطا فرما،ہمیں ثابت قدم رکھ اور قوم کفار پر ہمیں فتح ونصرت عطا فرما۔
اس حلف نامے کی عبارت پڑھنے کے بعد کنونشن کی کاروائی کے اختتام پرمسٹر محمد علی جناح نے تقریر کرتے ہوئے کہا :“ہمار ا حلفیہ اعلان ہم نے مکمل غور وفکر اور بحث ومباحثہ کے بعد ایک قرارداد منظور کی ہے ۔ہم نے اس عالی شان اور تاریخی کنونشن میں ایک حلفیہ اعلان کیاہے ۔ہم اگرچہ بہتری کی توقع رکھتے ہیں مگر بدترین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ہم نے ایک واضح،غیرمبہم اور پرزور اعلان کیاہے ۔ہم نے اعلان کیا ہے ہم نے تمام خطرات کامقابلہ کرنے کا اعلان کردیاہے ۔ہمارے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی باقی نہیں ہے۔”
بہرنوع! یہ حلف نامہ اور عہد واقرار اور اﷲتعالی سے اس پر ثابت قدمی اورکفار کے مقابلے کے سلسلے میں اﷲسے نصرت اور توفیق کی دعائیں قبولیت کا اعزاز پاگئیں ۔14اگست 1947ءکو وہ پاک مملکت معرض وجود میں آگئی جس کے حصول کی خاطر حلف ناموں پر اپنے خون سے بھی دستخط ثبت کیے تھے اور اس کے لیے لاکھوں فرزندان ِاسلام نے گردنیں کٹواکر ونسکی (اورمیری قربانی اﷲکے لیے ہے ) کا عملی مظاہر ہ بھی کیا تھا ۔جس کی خاطر ہزاروں خواتین اسلام کی عصمتیں ہندو سکھ کافروں نے تارتا ر کردیں اورکئی ہزار مسلمان عورتیں اورلڑکیاں جبروتشدد کے ساتھ ہندوسکھ دھرم اختیار کرنے پر مجبور کردی گئی تھیں ۔
دنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت پاکستان جب معرض وجود میں آگئی تو قریبا ًڈیڑھ سال بعد 12 مارچ 1949ء کو راقم الحروف کے استاذ محترم حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اﷲ کی مساعی حسنہ سے قرار داد مقاصد قومی اسمبلی سے منظور ہوئی جس میں پھر 1946ء کے حلف نامے کے عہد واقرار کی یاد تازہ کرتے ہوئے اعلان کیاگیا تھا کہ پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اﷲتعالی ٰکی ہے ۔
اسی کے احکام وفرامین کے مطابق اس ملک کا دستوری ڈھانچہ استوار ہوگا ۔پاکستان کا نظام فیڈرل ہوگا اورحکومت کی بنیاد اسلامی شریعیت کے مطابق جمہوری اصولوں پر مبنی ہوگی ۔پاکستان کے لوگوں کی معیشت اور معاشرت اسلامی سانچے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے گی اور تمام مذاہب کے لوگوں کی معاشرت بلند کرنے کے ساتھ اخلاقی حالت سنوار نے کا اہتمام کیاجائے گا۔
بعد ازاں اسی قرار داد کی روشنی میں 1973ءکے اسلامی دستور میں پھر ایک عہدواقرار کا اعلان کیاگیا تھا کہ دس سال کے اندر ملک میں رائج انگریز ی دور کے تمام قوانین ختم کرکے شریعت ِاسلامیہ کے صحیح قوانین نافذ کر دیے جائیں گے ۔اس کے بعد ہرسال 23 مارچ آئے ۔ان میں تجدید عہد کا دن کے زیر عنوان نمایاں سرخیال جلوہ افروز ہیں ۔باہم دگر بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی لیڈران کرام ان عہد ناموں کا تذکرہ کرکے سامعین کو طفل تسلیاں دیتے رہے کہ بہت جلد مقاصد پاکستان حاصل کرلینے کی خوشخبری سنادی جائے گی ۔
باشندگان ِپاکستان کے لیے یہ دن واقعی طمانیت افزا تھا جب 1973ء کے دستور کو اس ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے شریعتِ اسلامی کے مطابق قرار دیاتھا ۔وہ جسے عہد آفرین دستور کہا گیا ،اس میں ترامیم کرکے حلیہ کیوں بگاڑا گیا؟اس دستور اسلامی کی روشنی میں ترتیب دیا گیا قومی اسمبلی سے منظور شدہ عقیدۂختم نبوّت کے اظہار اورجھوٹے مدعی نبوّت مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ نظریے سے اور اسے نبی یامجددہونے کا عقید ہ رکھنے والے قادیانی اورلاہوری مرزائیوں سے لاتعلقی کے الفاظ پرمشتمل جو حلف نامہ تھا اسے کیوں ختم کیاگیا ؟جبکہ اسی کے مطابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ،ان کی کابینہ کے ارکان اوربعد ازاں جنرل محمد ضیاءالحق اور ان کی کابینہ پھر بے نظیر بھٹواور ان کی کابینہ نے حلف اٹھایا تھاحتی کہ جج صاحبان کے حلف نامے میں بھی اصل عبارت کے ساتھ درج تھا۔ اس حلف نامے کی تجدید عہد اب کیوں نہیں ہے ؟گویا 1940ء کی قرارداد اور بعد ازاں کے سالانہ تجدید عہد کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے ؟اگر مادی منفعت اور اسمبلیوں کی رکنیت کے بھتے کانام ہی تجدید عہد ہے تو یہ مقصد مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو ان کے اپنے آبائی گھروں سے جلاوطن کرانے اورہندو سکھ درندوں کے ہاتھوں مسلمان مردوں ،عورتوں اورمعصوم بچوں کے قتل عام اور ہزاروں عفت مآب کلمہ طیبہ کاورد واقرار کرنے والی مسلم خواتین کی آبرو تار تار کیے بغیر بھی حاصل ہوسکتا تھا؟ آخر کیاوجہ ہے ہرسال 23مارچ آتاہے ۔عمارتوں پر جھنڈے لہرائے جاتے ہیں ۔گھروں کے آنگن جھنڈیوں سے سجائے جاتے ہیں ۔ اخبارات کے ضخیم رنگین نمبر اشاعت پذیر ہوتے ہیں ۔ہرطرف چہل پہل ہوتی ہے ۔تاجروں کی طرف سے 23مارچ تجدید کا دن کے الفاظ کے ساتھ ہزاروں لاکھوں روپے کے اشتہارات اخبارات اورٹیلی ویژنوں کی زینت بنائے جاتے ہیں لیکن بات وہی ہے کہ تجدید عہد کس بات کی ؟آج تویوں محسوس ہوتا ہے کہ 23مارچ 1940ء کی قرارداد اور نظریے کوفراموش کرنے کا دن ہے ۔ ہرسال آنے والا23مارچ اس 23مارچ کانوحہ خواں ہے جو آج سےسٹرسٹھ سال پہلے آیاتھا۔
مولانا مجاہد الحسینی
اخبار “ضرب مومن ”
12تا18 ربیع الاوّل1429ھ مطابق 21تا 27 مارچ 2008ء


