حالاتِ حاضرہ
بڑھتی مشکوک سرگرمیاں
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 295
بڑھتی مشکوک سرگرمیاں
“مڈغاسکر” دنیا کاچوتھا بڑا جزیرہ ہے۔ براعظم افریقہ میں واقع اس جزیرے پردنیا کے تقریبا چھ فیصد پرندے آباد ہیں۔سواکروڑ آبادی کے اس ملک کے دوتہائی باشندے غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس غریب ملک کے خستہ حال باسیوں نے قومی غیرت کی انمٹ داستاں رقم کی ہے ۔ جنوبی کوریا نے مڈغاسکر کی زمیں خریدنے کی پیشکش کی ۔حکومت نے بھاری قیمت لگتے دیکھ کرہامی بھر لی۔ عوام نےاس سودے بازی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے شروع کردیے ۔حکمرانوں نے سمجھا کہ یہ چند سرپھر ے ہیں ۔انہیں معلوم نہیں ڈالر کیا ہوتاہے ۔انہیں شاید انگلش سمجھ نہیں آتی ۔جب وطن میں خوشحالی کادور دورہ ہوگا تو سب درست ہوجائے گا۔ملک میں دولت کی ریل پیل ہوگی تو سب کے منہ سل جائیں گے۔یہ سوچ کرجنوبی کوریاکو 13لاکھ ایکڑ زمین فروخت کردی گئی،مگر اگلے دن کا سورج حکومت کے لیے تباہی کا پیغام لے کرطلوع ہوا۔ پوراملک آتش فشاں کی طرح ابل پڑا ۔گلی گلی محلے محلے جلسے جلوس شروع ہوئے ۔پھر دنیا نے دیکھا ایک معاہدے کے سبب صدر کواستعفی دینا پڑا۔
وطن عزیز بھی ایسے بہت سے بدیسی مہمانوں کی نوازشوں کامرکز بن چکاہے ۔ابھی جون جولائی کی بات ہے امریکا نے اسلام آباد میں اپنے سفارتکاروں کے لیے 80 کرائے کے گھر حاصل کئے ۔ان گھروں میں آکر ٹھہرنے والے پراسرار مہمانوں کی سرگرمیاں محلے بھر کے لیے تشویش کاباعث بن گئیں،مگر ان امریکی ڈپلومیٹس پرکون ہاتھ ڈال سکتا ہے جوپنجاب پولیس کوگولی سے اڑانے کی دھمکی دے دیں ۔ وہ اسلام آباد جہاں ہرگلی ہرموڑ پر پولیس کاپہرہ لگاہے ،اس کی پولیس اتنی بے بس ہے کہ شہریوں کی شکایت کے باوجود ان مہمانوں کے اکرام کااہتمام نہ کرسکی ۔حیرت ہے امریکا اپنے شہریوں کوپاکستان کا سفر کرنے سے منع کرتاہے مگر اپنے ڈپلومیٹس کے لیے انتہائی مہنگے گھر خریدتا ہے ۔
انہی خصوصی پروٹوکول کے حامل امریکی کارندوں میں سے ہی آٹھ کو اسلام آباد جی نائن مرکز سے گرفتار کیاگیا۔ان کے قبضے سے جدید اسلحہ اور دس ہزار ڈالر پکڑے گئے ۔تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ سب سی آئی اےاور ایف بی آئی کے اہلکار ہیں۔لیکن امریکی سفارتخانے کے دباؤ پران کو چھوڑ دیاگیا۔
ابھی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ان خصوصی ارکان کی آمد کاسلسلہ تھمانہ تھاکہ بلیک واٹر آوارد ہوئی۔ اس نے پاکستان آتے ہی زی کے نام سے کام شروع کردیا۔وہ کمپنی جس کا سربراہ دنیا بھر کے میڈیا کوبتاتا ہے کہ ہمیں ڈاکٹرعبدالقدیر خان کوقتل کرنے کاٹاسک دیاگیا ۔ہم نے ڈاکٹر کے گرد گھیرا تنگ کیالیکن ہمیں منع کردیاگیا۔اس تنظیم نے پشاور میں 30 افراد کوملازم رکھا۔ اسلام آباد میں 200 مکان کرائے پرلیے ۔ان کی آمد بھی بڑے پراسرار انداز میں ہوتی ہے ۔وہ چارٹر ڈطیاروں پرآتے ہیں۔ ان کے پاسپورٹ چیک نہیں کیے جاتے ۔ان کے ساتھ آئے ہوئے سامان کوبغیر چیک کیے کلیئرنس دے دی جاتی ہے ۔ان کی آمد ورفت کاکوئی ریکارڈ پاکستانی حکام کے پاس نہیں ہوتا۔ ان کے پاسپورٹوں پرویز ے نہیں لگائے جاتے ۔
انہی امریکیوں نے اسلام آبادمیں30ایکڑ زمیں خریدی۔ابھی اس پرپاکستانی میڈیا شور مچا رہا تھاکہ حسن ابدال ،سیدن شریف اور فتح جنگ میں بھی زمیں بیچ دی گئی۔یہ زمیں بھی پاکستان کی حساس تنصیبات اور اداروں کے قریب واقع ہے۔اسے خریدنے والے بھی وہی کرم فرما ہیں جوکئی بار آزادانہ اسلحہ لہراتے پکڑے گئے۔ امریکیوں کی انہی سرگرمیوں کے بعدلاہور ہائیکورٹ نے حکم جاری کیاکہ سفارتکار ہمارے قانون سے بالاتر نہیں ۔اگران سے غیرقانونی اسلحہ پکڑ ا گیایا جعلی نمبرپلیٹ والی گاڑیاں استعمال کرنے کے مرتکب ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس کے بعد حکومت نے عوام کے بڑھتے دباؤ کے سبب بہت سے امریکیوں کو ویزوں کااجراروک دیا۔ایک سو سے زائد سفارتکاروں کے ویزے تاحال التواکاشکار ہیں۔حیرت کی بات ہے پاکستان میں امریکا کا منظور شدہ سفارتی عملہ 350 افراد ہیں۔ان میں سے بھی ایک سو سے زائد کوویزے جاری نہیں ہوئے ۔سوچنے کی بات ہے کہ پھر آئے روز لاہور اور اسلام آباد میں دنداتے کیاصرف250امریکی ہیں ؟نئے ویزے جاری کرنے سے پہلے حکومت کودیکھنا چاہیے کہیں ان میں سے کوئی غیر قانونی سرگرمی میں تو ملوث نہیں؟ورنہ این آراو زدہ حکومت کویاد رکھنا چاہیے پاکستان کے عوام مڈغاسکر کے لوگوں سے زیادہ باشعور ہیں؟تخت سے تختے تک کاسفر کبھی لمحوں میں بھی طے ہوجاتا ہے۔
عبدالمنعم فائز
اخبار“ضرب مومن”
جمعہ 07تاجمعرات 13محرم 1431ھ بمطابق جمعہ 25 تاجمعرات 31دسمبر 2009ء


