حالاتِ حاضرہ

پہلا اور آخری حل

پہلا اور آخری حل

چند دن پہلے ایک باریش بزرگ میرے پاس تشریف لائے اور چپ چاپ میرے سامنے بیٹھ گئے ، ان کی آنکھوں سے پریشانی ،اداسی اور مایوسی جھلک  رہی تھی ،میں نے ان سے پریشانی کا سبب پوچھا تو انہوں نے ایک سر د آہ بھری اور رک رک کر بولے گزشتہ برس حکومت نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا میں خاموشی سے سننے لگاوہ بولے اس آپریشن کے دوران حکومت نے پہلے جامعہ پر فائرنگ کی ،پھر گولے پھینکے  اور اس کے بعد چند موذی کیمیکلز اور گیسیں استعمال کی تھیں ،جن کے باعث ہزاروں بچیاں نا صرف شہید ہوگئیں بلکہ ان کی نعشیں  بھی شناخت کے قابل نہیں رہی تھیں وہ رکے اور دم لے کر دوبارہ بولے حکومت نے ان تمام نعشوں کوچپ چاپ اسلام آباد میں دفن کردیا تھا، ان بچیوں میں میری بچی بھی شامل تھی،میں روز مانسہرہ  سے اسلام آباد  آتا ہوں قبرستان  جاتاہوں اور ایک ایک کرکے تمام قبروں پر فاتحہ پڑھتا ہوں میں سوچتا ہوں شاید یہ قبر میری بیٹی  کی ہویا پھر وہ قبر ہویا پھر آخری قبرمیں میری بیٹی سورہی ہو وہ رکے اور دوبارہ بولے میری زندگی  کی سب سے بڑی خواہش  سے کوئی شخص مجھے میری بیٹی کی قبر کی نشاندہی کردے لیکن افسوس اس زندہ شہر میں کوئی ایسا شخص موجود نہیں جومیری یہ خواہش پوری کردے ۔بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے میں نے بابا جی سے عرض کیا میں آپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں ،میں آپ کے درد میں شریک ہوسکتاہوں،میں آپ کو تسلی کے چند بول بھی دے سکتا ہوں لیکن آپ کی بیٹی  میں فقرہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہوگیا ،باباجی کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ میرے دل پر گرنے لگے ،انہوں نے کندھے سے چادر کاپلو کھینچا  آنکھوں کوصاف کیا ،ہاتھ  میری طرف بڑھایا ایک غمناک  آہ بھری اور بوجھل  قدموں سے میرے دفتر سے باہر نکل گئے ۔باباجی چلے گئے،پیچھے میں تھا اور باباجی کے آنسو اور آہیں تھیں ،میں سوچنے  لگاکہیں یہ آنسو یہ آہیں اس ملک کے تمام مسائل کی بنیاد تونہیں ،کہیں یہ دکھے دل اوریہ زخمی  سانسیں اس ملک کے بحرانوں  کا اصل سبب تونہیں ہیں۔

میں سوچنے لگااﷲتعالی  ٰنے اس ملک میں رزق  کیوں کم کردیا اور اس نے بجلی ،گیس ،پانی اور تیل کیوں اٹھالیا ،میری سوچیں وسیع ہوتی چلی گئیں اور مجھے بچپن  میں پڑھا ہواایک واقعہ یاد آگیا ۔ہزاروں سال پہلے یہودیوں کی کسی بستی  پر قحط پڑگیا بستی کی ساری زمینیں  بنجر ہوگئیں ،سارے جانور ایک ایک کرکے مرگئے ،سارے درخت سوکھ گئے اورانسان انسان کوکاٹ کرکھانے لگا،بستی  کے لوگوں نے گڑگڑا کر اﷲتعالی سے بارش کی دعا ئیں کیں لیکن بارش نہ ہوئی لوگوں نے دوسری بستیوں سے غلہ منگوایا لیکن  اس غلے کوکیڑا لگ گیا ،لوگوں نے نقل مکانی شروع کی توانہیں کوڑھ کامرض لاحق ہوگیا اور دوسری بستی کے لوگوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا ،چنانچہ بستی  کے لوگ گلیوں اور بازاروں میں بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگے لیکن یوں محسوس ہوتاتھاجیسے موت بھی ان لوگوں سے روٹھ گئی ہو،قحط  کے اس دور میں کسی نے مشورہ دیا فلاں گاؤں میں اﷲکا ایک نبی رہتاہے چلوچل کر اس سےدعاکراتے ہیں بستی کے لوگ نبی کے پاس حاضر ہوئے  ان کے سامنے گڑگڑا نے لگے ،نبی کوان پر ترس آگیا اور انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے ابھی نبی نے دعاشروع نہیں کی تھی کہ ان پر وحی نازل ہوئی  اور اﷲتعالی نے فرمایا  آپ ان بدبختوں سے کہیں ان کی بستی میں میرا ایک مقرب بندہ  رہتا ہے اور انہوں نے دوسال سے اس کا حقہ پانی بندکررکھا ہے اوریہ کیسے ہوسکتاہے میرا بندہ بھوکا اورپیاسا رہے اور میں ان لوگوں کے دسترخوان آباد  رکھوں ، ان سے کہہ دیجیے جب تک  میرے بندے کوروٹی،پانی اور دوانہیں ملے گی اس وقت تک کوئی دعاکوئی عبادت  اور کوئی ترکیب ان کے کام نہیں آئے گی ۔بستی کے لوگ واپس آگئے ،انہوں نے اﷲکے مقرب بندے سے معافی مانگی اور اسی شام بارشیں  شروع ہوگئیں ، اس بستی کا قحط ختم ہوگیا ۔ہم لوگ مسلمان ہیں اورہمارا  ایمان  ہے کوئی مسلمان  اﷲتعالی کوناراض  کرکے سکھی ،مطمئن  خوشحال اور پرسکون نہیں رہ سکتا اورہم لوگ لمحہ  موجود میں انتہائی بے سکون ،بدحال ،غیر مطمئن  اور ٹینس  ہیں ؟سوال پیدا ہوتاہے کیوں ؟اس کیوں کی میں باباجی جیسے سینکڑوں  لوگون کے آنسو ،آہیں  اور درد چھپا ہے اورجب سے وہ بزرگ میرے پاس سے اٹھ کرگئے ہیں،مجھے محسوس ہوتاہے ہمارے ان تمام مسائل کی وجوہات  لال مسجد  اورمدرسہ حفصہ  میں پیوست  ہیں۔حکومت نے   3جولائی   2007ء کواسلام آباد کی لال مسجد اور اس سے ملحقہ  دارالعلوم حفصہ  کاگھیراؤ  کیاتھا ،اس مدرسے  میں یتیم  بچیاں دینی تعلیم حاصل کرتی تھیں ،  3سے   10  جولائی تک  اس جگہ انتہا درجے کاظلم ہوا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تین سے چار سو اور غیر سرکاری اندازے  کے مطابق  ایک ہزار بچیاں  شہید ہوگئیں ،یہ ایک ایسااقدام تھاجسے آج پرانی حکومت کے عہدیدار بھی ظلم قراردے رہے ہیں چودھری  شجاعت  حسین سے لے کر ڈاکٹر شیرافگن  تک ماضی  کے تمام حکمران  اس اقدام  کی مذمت  کرچکے ہیں ،لہٰذامجھے محسوس ہوتاہے ہوسکتاہے اس ظلم سے اﷲتعالی ہم سے ناراض ہوگیا ہو اور ہمارے موجودہ حالات کی خرابی کی وجہ اﷲتعالی کی یہ ناراضی ہو ۔آپ خود فیصلہ  کیجیے  حکومت نے لال  مسجد اورمدرسے حفصہ  کی بجلی کاٹ دی تھی ،آج پورے ملک کی بجلی بندہے،حکومت  نے یتیم  بچیوں  کی خوراک  کی سپلائی  روک دی تھی ،آج پورے ملک سے آٹا غائب ہے،حکومت نے لال مسجد  کاپانی بندکیا  تھا ،آج ہمارے سارے ڈیم،سارے دریا اورساری نہریں سوکھ چکی ہیں،حکومت  نے مسجد کے گرد کرفیو لگایا  تھا، آج پورا ملک صدرمشرف  کی ایمرجنسی  کے نتائج  بھگت رہاہے ،عدالتوں نے مدرسے  کی یتیم  بچیوں کوانصاف نہیں دیاتھا ،آج پاکستان  کاپوراعدالتی  نظام ایڑیاں رگڑ رہا ہے ،حکومت نے مدرسے  کا پیڑول  ٹینک  اڑا دیا تھاآج پورا ملک پیٹرول کے شدید بحران میں مبتلا ہے حکومت نے شہید بچیوں کے لواحقین کواحتجاج نہیں کرنے دیاتھا آج پورے ملک میں احتجاج ہورہے ہیں ،مدرسے کے اندر شہید بچیوں کی نعشیں جلادی گئی تھیں ،آج ملک میں لوگ لوگوں پرپیڑول چھڑک کرآگ لگارہے ہیں حکومت نے اس ایشو سے امریکا سے ڈالر لیےتھے آج ہمارا روپیہ ڈی ویلیو  ہوتاچلاجارہاہے اورحکومت  نے اس ظلم کے لیے فوج اور رینجر ز کواستعمال  کیاتھا ،آج فوج کے تمام اعلیٰ  افسر اور اور سنیٹرز خودکش حملوں کاٹارگٹ ہیں ۔ہم تھوڑا سا مزید آگے چلتے ہیں ،یہ آپریشن صدرپرویز مشرف  نے کرایا تھا آج اس ملک میں صدر پرویز مشرف  کی کیاپوزیشن ہے اس آپریشن  کی تحریری اجازت شوکت عزیز نے دی تھی آج و ہ شوکت عزیز  کہاں ہے ؟اس آپریشن  کے دوران  مسلم لیگ ق  کی حکومت تھی آج وہ مسلم لیگ ق کہاں ہے  پاکستان پیپلز  پارٹی  کی قائد  محترمہ  بےنظیر بھٹو نے اس آپریشن  کے حق میں بیا ن دیاتھا محترمہ  کتنی بڑی ٹریجڈی  کا شکار ہوئیں ،مولانا فضل الرحمن اور ایم ایم اے نے یہ آپریشن  رکوانے کی کوشش نہیں کی آج ایم ایم اے  اور مولانا فضل الرحمن  کی کیا پوزیشن ہے اورمسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے مدرسہ کی بچیوں کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی  قدرت نے انہیں بھی کھل کرحکومت نہیں دی ۔ میں یہ دعویٰ  نہیں کرتاکہ میرا یہ تھیسس سوفیصد درست ہے لیکن اس کے باوجود  ہم اﷲتعالی کی ناراضگی کےامکان کومسترد نہیں کرسکتے چنانچہ میرا خیال ہے ہمیں اﷲتعالی  سے فوراً معافی مانگنی چاہیے  اورتوبہ کرنی چاہیے  ورنہ ہمارے مسائل میں اسی طرح اضافہ ہوتا چلاجائےگا۔

 

میرا خیال ہے اﷲتعالی نے اس ملک کے حصے کی تمام نعمتیں مدرسہ حفصہ  کی بچیوں کی قبروں میں دفن کردی ہیں اورجب تک ہم توبہ نہیں کرتے ہم اﷲتعالی کونہیں مناتے ہمیں یہ ساری نعمتیں  واپس نہیں ملیں گی۔ ہم اس وقت تک اسی طرح آٹے ،بجلی اور پانی کوترستے رہیں گے ۔(بشکریہ “ایکسپریس”)

جاوید چودھری

اخبار “ضرب مومن ”

25 جمادی اولی تایکم جمادی الثانی 1429ھ مطابق 30مئی تا 05 جون 2008ء