حالاتِ حاضرہ

تاریخ کے فیصلے

تاریخ کے فیصلے

میرے لیے موت  کی سزا  تجویز  کرنے والو  !   اب میں تمہارے  لیے ایک پیش گوئی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اب میں موت کے قریب  ہوں اور موت کے قریب انسانوں  میں پیش گوئی کی صلاحیت  بڑھ جاتی ہے ۔ میرے قاتلو  !   میں تمہارے  لیے یہ پیش گوئی کرتا ہوں کہ میری موت کے فورا ًبعد تمہیں  یقینا  اس سے زیادہ بھاری  سزا بھگتنا پڑے گی جوسزا تم نےمجھے  دی ہے۔اگر تم سمجھتے  ہو کہ دوسروں  کوقتل  کرکے تم  انہیں  اس بات سے باز رکھ سکو گے کہ تمہیں  تمہاری  برائی پرملامت نہ کریں  تو تم غلطی  پرہو۔بچاؤ  کا یہ طریقہ  نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی قابل عزت ۔آسان اور شریف ترین طریقہ  یہ نہیں کہ دوسروں کوختم کردیاجائےبلکہ یہ ہے کہ اپنی اصلاح کی جائے۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو نامور فلسفی  سقراط  نے اپنی موت کافیصلہ  سنائے  جانے کے بعد ججوں کے سامنے کہے ۔ سقراط  کانامور وباکمال جانشین اور شاگرد افلاطون وہاں موجود  تھا۔افلاطون  نے اپنی ایک شہرہ ٔ  آفاق کتاب کو مکالمات کی شکل  میں لکھا  ہے۔اس میں ایک مکالمہ Apology   کے نام سے بہت  زیادہ تاریخی  خیال کیاجاتاہے ۔یہ سقراط  کی وہ تقریر  ہے جو اس نے اپنے مقدمہ  کے دوران اپنے دفاع  میں کہی  کچھ دیر ساکت ہونے کے بعد سقراط پھر گویا ہوا: میرے معاملہ  میں جوکچھ  ہوا،خیر ہے اور یہ کہ جو لوگ سمجھتے  ہیں موت  ایک برائی  ہے ،وہ غلطی پرہیں ۔کیونکہ موت  ایک بے خواب نیند ہے۔جوواضح  طور پر خیر ہے ۔یاروح  دوسری دنیا کی طرف ہجرت کرجاتی ہے۔آخر آرفیئس  ،موسیئس ،ہیساڈ اور ہوم جیسے انسانوں (سقراط سے پہلےگزرے ہوئے عظیم  فلسفیوں  کے نام ہیں)سے ہمکلام ہونے کے لیے انسان کیاکچھ قربان نہیں  کرسکتا ۔اگریہ صحیح  ہے تومیں بار بار مرنے کے لیے تیار ہوں۔

اس کے بعد سقراط  نے پھر ایک ثانیہ  کاتوقف  کیا ۔ضمیر  فروش  ججوں کی کمیٹی جس نے اس دور کے حکمرانوں کے پی سی اوکا حلف لے رکھاتھا ،دم سادھے زمانے کے عظیم ترین مفکر  کاآخری  کلام سن رہی تھی ۔آج علم  ودانش کوموت کی سزا ہوئی تھی ۔آج عقل ،فہم ،خرد اور فرزانگی  نے موت  کاپیالہ  پیناتھا  مگر مرتے مرتے بھی عظیم مفکر اپنی قتل گاہ کودرس  گاہ بنا گیا ۔سقراط نے نظر بھرکرانصاف  کے قاتلوں  کودیکھا  اور آخری  جملہ کہا:رخصت  ہونے کا وقت آن  پہنچا ہے اورہم اپنی اپنی  راہ لیتے ہیں میں موت کی راہ پر اور آپ زندگی کے راستے پر یہ صرف خداہی  جانتاہے  کہ ہم میں سے کون بہتر  ہے؟

مجھے  اسلام آباد  آئے ہوئے تین  دن ہوچکے ہیں۔ان تین دنوں میں روزانہ  میرااضطراب مجھے کھینچ کر لال مسجد لے جاتا ہے ۔پہلے لال مسجد  میں دوگانہ  اداکرتا ہوں۔پھر اس میدان  میں آکھڑا  ہوتاہوں جس  کوچند ماہ پہلے  جامعہ حفصہ  کہاجاتا  تھا۔اب اسے میں قتل گاہ  کہوں  یادرس گاہ یہ فیصلہ دشوار ہے ۔تاریخ  اس مقتل  کوکبھی فراموش نہ کرپائے گی ۔اہل حق نے توکالا پانی  اورمالٹا  کے اسارت خانوں  کے تذکروں  کوآج  تک گرم  رکھا ہے اوریہ کوئی  زنداں  نہیں بلکہ قتل گاہ  ہے جہاں  سربریت  اورآمریت  نے مل کرعلم وعرفان  ،حیا وعفت ،پاکیزگی  ومعصومیت  اور خلوص و   وفا  کاوہ قتل  عام کیا ہے کہ خدا کی پناہ اس جگہ  کھڑے  ہوکرچشم تصور سے عجیب عجیب  مناظر دیکھتا ہوں ۔ہرمنظر  کے ساتھ ہی میری آنکھیں  ڈول  کی طرح پانی سے بھر جاتی ہیں ۔بے رحمی  سے آنکھوں  کوصاف کرتاہوں تاکہ سامنے کامنظر نہ دھندلائے تو  پھر ڈھیروں  پانی نگاہ کاراستہ روک دیتاہے ۔مجھے  ہزاروں برقعے  اور ان برقعوں  میں مستور وہ عفت  مآب بچیاں یاد آتی ہیں جن پرتاریخ  کابدترین  ظلم کیا گیا۔پھرمجھے  اپنا بہترین  اور بے تکلف  دوست (جس  کواب دوست کہنا اس کی شان  میں گستاخی لگتی ہے کہ اس نے اتنی جلد  وہ بلند مقامات طے کرلیے کہ عقیدت  کی کوئی  عالی مسند ہی اس  کے شایان  شان ہوسکتی  ہے) غازی عبدالرشید  یادآتا ہے ۔غازی  کے ساتھ ہی سقراط  اور زہر  کاپیالہ  یادآتاہے ۔نہ جانے  کیوں بار بار یوں لگتا تھاکہ غازی  عبدالرشید شہید کچھ  کہہ رہاہے ۔غازی کے الفاظ اور سقراط کی گفتگو آپس  میں خلط  ملط  ہورہے  تھے ۔لاشعور  میں سقراط کی گفتگو  تھی کہ امتحانوں  کے زمانے میں اس گفتگو  کوجھک مار کرزبانی  یاد کیاتھا کہ ماسٹرز کے پرچوں میں یہ سوال  لازمی سمجھاجاتاہے اور غازی عبدالرشید  شہید  سے ہونے والی  گفتگو  ابھی تازہ تازہ  پردہ ٔشعور  پرموجود تھی ۔ذرا آپ  بھی یوں  کریں  کہ مندرجہ  بالا پیراگراف کودوبارہ پڑھیں مگراس حیثیت  سے نہیں کہ یہ سقراط  کے الفاظ  ہیں بلکہ  کچھ دیریوں سمجھ لیں کہ حق کی خاطر موت کوقبول  کرنے والے  راہِ وفا کے شہدا کچھ کہہ رہے ہیں۔

 

ہزاروں سال قبل کی گئی بات اور آج کے واقعات میں کس قدر مماثلت ہے؟سقراط  کی پیش گوئی کتنی  درست ہے ؟تاریخ کاانتقام شروع ہوچکاہے ۔لال مسجد  کے شہدا  کی فغاں نے عرش تو اسی دن ہلادیاتھا اب فرش کے ہلنے  کاعمل شروع ہوچکاہے ۔ہرطرف  مواخذ ہ  کی پکار ہے ۔مگرسوال یہ ہے کہ کس کس کامواخذہ  یاان تمام  لوگوں کامواخذہ  جنہوں نے  آمریت  کونوسال  تک ظلم ڈھانے  اورملک تباہ کرنے  کے لیے اپناکندھا فراہم کیے  رکھا؟یہ فہرست  بنائی  جائے تو بہت طویل  ہوجائے گی ۔آج رخصت  ہوتا ہواآمر چیخ چیخ  کر اپنے آئینی  صدر ہونے کااعلان کررہا ہے ۔اس کے علاوہ اس کےپاس اپنےناجائز وجود کاکوئی اورجواز ہے بھی نہیں لیکن آج سارا الزام  ایک کندھے پردھر کرنو سال تک مفادات ،مراعات اور نفاق کا کھیل کھیلنے والے بری  نہیں ہوسکتے  ۔یہ حقیقت بہت روشن  اور بے حدواضح  ہے کہ وہ کون کون  سے افراد اور عناصر ہیں جن کے کبھی ظاہر کبھی  پس پردہ تعاون  کی بنیاد پراس ملک کی تاریخ کے  سیاہ ترین دور نے نوسال  کاطویل عرصہ پورے طمطراق سےگزارا ہے۔یقیناً  اس فہرست میں کچھ پردہ نشین  بھی آئیں گے اور یقینا  آئیں گے مگرپروانہیں تاریخ اورانصاف کے فیصلے تمام مصلحتوں  سے بالاتر  ہوتے ہیں ۔لال مسجد کے شہداکےخون کےچھینٹے  بھی فقط آمر کی وردی  ہی نہیں بلکہ  کچھ لمبی  آستینوں  اجلے دامنوں  اور براق  گریبانوں پربھی ہیں جن سے وقت حساب لے گا اورشاید وہ یوم  حساب قریب آچکاہے۔

مولانا سیدعدنان کاکاخیال

اخبار“ضرب مومن ”

  10تا16جمادی الثانی 1429ھ مطابق 13تا19 جون 2008ء