حالاتِ حاضرہ
سوال یہ ہے کہ
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 535
سوال یہ ہے کہ
بس پرچڑھتے ہی نظر اسٹیکر پرپڑی توجم کررہ گئی۔کنڈیکٹر آواز دے رہاتھا کہ مولانا صاحب آگے بڑھیے ، راستہ چھوڑیے مگر ہم راستہ چھوڑتے چھوڑتے بھی اسٹیکرپر نظر جمائے ہوئے تھے۔اگر آپ اس کالم کے مستقل قاری ہیں تو آپ کی نظر بھی تھوڑی دیر کے لیے اس اسٹیکر پر جم کر رہ جائےگی اور آپ کے ذہن میں مختلف کالموں میں کیے گئے تبصرے اور اطلاعات (بندہ جان بوجھ کر پیش گوئیوں کے بجائے اطلاعات کالفظ استعمال کررہا ہے)گردش کرنے لگیں گی ۔بس سے اترتے وقت یہ اسٹیکر اتار کرحاصل کرلیاگیا۔آپ اسے ملاحظہ فرمائیے اور ساتھ میں ان چند باتوں کو دہرائیے جو مستقبل میں متوقع خطرات کی تصدیق کرتی ہیں:
(1)بندہ نے ایک مرتبہ اپنے ایک دوست ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے لکھا تھاکہ ان کی ملاقات ایک سیمینار میں ایک یہودی پروفیسر سےہوئی جس نے انہیں بتایا کہ اب ہم مسلمانوں کے عقائد کی تخریب کے لیے صوفی ازم کا عنوان استعمال کریں گے۔اس کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں سرکاری طور پر صوفی ازم کا چربہ ایڈیشن وجود میں آگیاجس نے قوالی ،موسیقی اور مخلوط محافل وغیرہ کے ذریعے لوگوں میں اسلام کی رہی سہی تمیز ختم کرنے اور دین کی رسی کا آخری سرابھی ان سے چھڑوانے کی اپنی سی کوشش شروع کی ۔یہ منصوبہ جناب مشاہد حسین صاحب کی قیادت میں پوری سرکاری سرپرستی میں اور چوہدری شجاعت حسین کے کالے چشمےکے مکمل زیر سایہ پروان چڑھایا جارہا تھا کہ اﷲکا امرنازل ہوگیا اور اب معلوم نہیں کہ آگے کیاہوگیا؟
(2) فری میسن کے مذہبی ایجنٹوں کی تین علامات لکھتے وقت بندہ نے عرض کیاتھا:
(1) یہ لوگ قرآن پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ حدیث شریف کا انکار کیا جاسکے جیسے غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکار ۔
(2)یہ لوگ قرآن وحدیث دونوں پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ فتنہ کاشکار کرکے ۔۔۔اجتہاد لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔جیسے بابر چوہدری ،شیخ محمد وغیرہ ۔(3) پھر یہ حضرات رواداری اور ٹالریشن پر اس لیے زور دیتے ہیں کہ جہاد کا انکار کیا جاسکے جیسے خورشید ندیم وغیرہ ۔(یہ مضمون پہلے آچکا ہے۔ ذرا تفصیل سے عنقریب ان شاء اﷲ دوبارہ آئے گا)
(3) یہودیت پرسلسلہ وار مضامین میں مسلمانوں میں مصروف کا ریہودی تنظمیں کے عنوان سے بندہ نے دس منتخب تنظیموں کاحوالہ دیتے ہوئے نمبر 9 پرلکھا تھا:مسلم معاشروں میں انیسویں اور بیسویں صدی میں ابھرنے والی تمام باطنی تحریکیں ،تنظیمیں اورحلقے اس کے بعد بندہ کی چونکہ عادت ہے کہ کسی چیز کے محض نظری بیان پراکتفا کے بجائے اس کی عصری تطبیق اور تازہ ترین مثال پرزور دیتاہے اس لیے اس نمبر کے تحت کہا تھا: اس کی تازہ ترین مثال فتنہ گوہر شاہی ہے۔(دیکھیے مذکورہ بالا کباب ص 23) پھر ایک خبر ایک سبق نامی کالم میں اس بات پرتشویش کا اظہار کیاتھا کہ گوہر شاہی کے انتقال کی خبر دنیا بھر میں چلی لیکن کسی نے بعدازمرگ اس کاچہرہ دیکھا نہ اس کی تصویر جاری ہوئی ۔انتہائی پراسرار طریقے سے اسے کوٹری کے قریب “دفن ” کردیاگیا۔ برمزار ماغریباں نے چراغے نے گلے ۔ اس پر بندہ نے شبہ ظاہر کیاتھا کہ اس کے پیروکار اس کی غیبوبت اور ظہور ثانی کاڈرامہ تو نہیں رچارہے ۔ جس پنجابی دیہاتی شخص (عرف عام میں اس کوپینڈو کہتے ہیں )کی تصویر چاند وسورج میں دیکھنے کادعوی کیاجاتا ہے، اس کے آخر ی دیدار کی تصویر کیوں نہیں جاری کی گئی؟ جس کھڑی ناک اورجھلکے کالروں والے نیم خواندہ ، نیم پسماندہ پٹواری نما طفیلی کونعوذ باﷲثم نعوذ باﷲ مالک الملک مہدی منتظر مسیح موعود کالکی اوتار اور پتانہیں کیا کیا کچھ کہاجاتاہے (یقین نہ آئے توفری میسن کے اس تازہ ترین کا شتہ جعلی پیر کی ویب سائٹ دیکھ لیجیے ۔قادیانیت کے بعد خطرناک ترین فتنے کی آبیاری پر آپ کوخود ہی یقین آجائے گا)یہ سارے القاب اس کی زندگی میں نہ تھے ،مرنے کے بعد ان میں اضافہ ہواہے ۔توسوال یہ ہے کہ ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کا فرقہ تومنظر عام سےہٹ گیا ہے لیکن فرقے کے سرغنے کے روحانی القاب اور باطنی مناصب میں اضافہ ہی ہوتا چلاجارہاہے ۔یہ کیا طلسم ہوشربا ہے؟اس وقت کا ظاہر کیاگیا خدشہ آج اس اسٹیکر کی شکل میں درست ثابت ہورہاہے۔حقیقت کاعلم اﷲکوہے لیکن قرائن سے آنکھیں بند کرلینا توکوئی عقل مندی نہیں۔ واقعہ کیا اورکیونکر ہوگا اس کی خبر عالم الغیب کے علاوہ کسے ہوسکتی ہے ؟لیکن قبل ازوقت ممکنہ آگاہی اگرپیش گوئی کے بجائے اطلاعاتی اظہار کی شکل میں ہوتو اس سے فائدہ نہیں تو نقصان بھی توکوئی نہیں تو اے اہل پاکستان زمانہ بڑا عجیب ہے ۔دشمن بڑا چالباز ہےایمان کے خلاف برپا فتنے نہایت قیامت خیز ہیں ۔وقت کاایک ہی تقاضا ہے توبہ اور تلافی ۔توبہ اور تلافی کرناکردہ گناہوں کی اور ساتھ میں اس پر بھی نظر کہ خستڑے مردے جب زندہ ہوکر پہلے زیادہ فتنہ خیز مہم چلائیں گے اور ان کا ظہور ثانی ظہور اول سے زیادہ ایمان سوز ہوگاتومیری قوم کے رہنما جوحقیقی صوفیت کے خاتمے اورجعلی صوفی ازم کی ترویج کا آرڈر وصول کیے بیٹھے ہیں، کیاکریں گے؟
گوہر شاہی اس قابل توہرگزنہ تھا(اورنہ ہے ) کہ قرآن وحدیث کے حوالے سے کچھ کہہ سکے ۔وہ ایک پنیڈ وقسم کاشخص ہے جوٹھیٹھ دیہاتی پنجابی لہجے میں اردو بولتا اور قرآن خوانیاں کرکے دھند اچلانے والے سائیکل سوار ٹیوشنیوں جیسا رومال سرپرڈال کرپاؤں لٹکا کرچلتا ہے ۔نجانے پاکستانی گرینڈ ماسٹرز نے اسے کہاں سے ڈھونڈ کرتراش خراش کے عمل سے گزارا ہے۔اس سے پہلے دوکام توہونہ سکتے تھے۔اس نے تیسرا کام کیا ۔اس کی ویب سائٹ پرآپ کوہندوؤں سے پیار،یہودیوں سے محبت اور عیسائیوں سے خلوص واحترام ملے گا۔ دنیا کے ہرمذہب کے ہرفرد کے لیے اس کا آستانہ ہرلمحے کھلاہے۔ اگر کسی کی مخالفت ہے توصرف دوافراد کی ایک امیرالمومنین ملاعمر اور دوسرےشیخ اسامہ بن لادن ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی مخالفت میں لکھی گئی دوسطروں کے لیے یہ پوری ویب سائٹ کھولی گئی تھی اور انہی دو سطروں پر اس ویب سائٹ کے خرچ کابل بمع گریبی منظور ہواہوگا۔
سوال یہ نہیں ہے کہ اگر چاند،سورج ،حجراسود وغیرہ میں موہوم خیالی تصویر نظر آنا اس کے برحق ہونے کی علامت ہے تو سیدالبشر افضل الخلائق ﷺ کے لیے یہ معجز کیوں ظاہر نہ ہوا؟ اس طرح کی علامتیں پاکستانی مجاوروں کے لیے کیوں باقی رہ گئیں؟
سوال یہ بھی نہیں کہ اگر اس طرح کی فرضی اور وہمی تصویروں کوحق وباطل کامعیار بنالیاگیا توانسانی قوت متخیلہ کے ایسے شاہکار توزقوم کے پتوں اوراستنجے کی وٹوانیوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں ۔اگر کسی کوآنجناب قبلہ ریاض گوہر شاہی کی شکل وہاں نظر آنا شروع ہوجائے توکیا ہوگا؟یااگر کوئی اور فرقہ اس طرح کے دعوے شروع کردے تو اس کا کیا ہوگا؟
سوال یہ بھی نہیں کہ ایک شخص کاماضی کسی کومعلوم ہی نہیں ہے ؟اس نےکیا پڑھا؟ کس سے اصلاح وارشاد کاتعلق رہا؟کسی کوبھی پتا! اس کے مریدین کی فہرست دنیا بھر میں دیکھیے توجدید تعلیم یافتہ ماڈرن خواتین ہیں،پاہیاں ہواں قسم کے پینٹ کسے ہوئے لمبے بالوں والے نوجوان وہ اچانک پاکستان جیسے علماو مشایخ سے بھرے ملک میں نمودار ہوتاہے اورتمام روحانی مناصب کوپیچھے چھوڑتا ہواچاند سورج میں شبیہیں بنوالیتاہے ۔اتحاد بین المذاہب اور انکار جہاد جیسے یہودی ایجنڈے کے علاوہ اس کاکوئی مشن ہی نہیں ہے ۔اس کے پاس بے تحاشا سرمایہ ہے جو بے دریغ لٹایا جارہاہے ۔اس کے مرنے کے بعد اس کے مریدین اس کی غیبوبیت کے بعد دوبارہ آنے کی راہ ہموار کررہے ہیں،آخر یہ سب کچھ کیاہے؟
مفتی ابوالبابہ شاہ منصور
اخبار“ضرب مومن ”
06تا 12رجب 1429ھ مطابق 11تا17جولائی 2008ء


