حالاتِ حاضرہ

مدرزڈے

 

مدرزڈے

وہ دور ہی سے ہاتھ ہلاتا اور کچھ کہتا ہوا آرہا تھا۔ادھیڑ عمر اور لمبے قد کا آدمی تھا۔اس نے سادہ سے کپڑے پہن رکھے تھے ۔میں نے آگے پیچھے دیکھا وہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا گویا وہ مجھی سے مخاطب تھا مگر میں اس کی بات کیسے سمجھتا ؟وہ جو کچھ بھی کہہ رہا تھا وہ انگریزی میں تھا اور مجھے انگریزی کی الف ب یعنی اے بی سی بھی نہیں آتی تھی ۔میں آج پہلی مرتبہ اکیلا باہر نکلا تھا صبح کی تازہ ہوا اور کھلی فضا میں سانس لینے کو۔ورنہ تو پچھلے دس دنوں میں ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہمارے میزبان ساتھ ہوتے تھے اور وہ ہماری ترجمانی کرتے تھے ۔ہم دس سال قبل کراچی سے جدہ اور پھر عمرہ کرتے ہوئے انگلینڈ پہنچے تھے ۔ ہمارا قیام لندن کے ایک مضافاتی قصبے میں تھا۔

جب میں نے محسوس کیاکہ وہ بڑے میاں مجھے ہی کچھ کہنا چاہتے ہیں تو میں نے انہیں بینچ پر بیٹھنے اور کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا ۔میں اٹھا اور قریب اپنی قیام گاہ سے میزبان کوبلالیا۔ ان کے واسطے سے جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ بڑے میاں دوسا ل قبل کسی سرکاری محکمے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور اب ان کا وقت کاٹے نہیں کٹتا ۔وہ کچھ وقت اخبار پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں مگر ان کا دل چاہتا ہے وہ کسی سے باتیں کریں ۔دل کی باتیں ۔گپ شپ لگائیں لیکن ان کی اولاد کے پاس وقت نہیں ۔وہ اپنے پوتوں،نواسوں کواپنی گود میں لے کرکھلانا چاہتے ہیں لیکن ان کے تعلیمی شیڈول اور دیگر مشغولیات اس میں رکاوٹ ہیں ۔کرب اور بے چینی ا س کی پیشانی سے عیاں تھی ۔باتوں سے مایوسی اور محرومی ٹپکتی تھی ۔ وہ چاہتا تھا کوئی اس کے پاس بیٹھے اس کی سنے اور کچھ اس سے کہے مگریہاں اس کی بات سننے کی کسے فرصت تھی ؟ہم نے کچھ دیر اس سے باتیں کیں؟وہ ہلکا پھلکا ہوگیا ۔جیسے اس کے دل سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ وہ ہمیں دعائیں دیتارخصت ہوگیا۔

اس کانام منظور تھا۔ سب دوست اس کومنظور جھلاکہتے تھے ۔آٹھویں جماعت میں اسکول اس نے چھوڑ دیا تھا ۔باہر ملک جانے کا سوداسر میں سمایا۔ایک ایجنٹ کے ہتھے چڑھ گیا ۔وہ اسے ایران وترکی کے راستے گھما پھر اکر جرمنی چھوڑ آیا۔ اس گروپ میں سمجھ دار اور پڑھے لکھے لڑکے بھی تھے ۔ سب پھر پھر ا اور دھکے کھاکر واپس آگئے۔منظور جھلا جرمنی میں نہ صرف سیٹ ہوگیا بلکہ اچھی خاصی معقول رقم بھی گھر بھیجنے لگا۔ دوسال کے بعد وہ پاکستان آیا۔ میں نے اس سے پوچھا یارمنظور تم تو ان پڑھ ہو۔کوئی ہنر بھی تمہیں نہیں آتا اور تمہیں انگریزی یاکوئی اور غیرملکی زبان بھی نہیں آتی ۔تم جرمنی میں کیسے سیٹ ہوگئے ؟اس نے قہقہہ لگایا اورکہا بس میر اجاہل اور جھلا ہونا ہی کام آگیا۔پھر بھی تم کیاکرتے ہو؟

منظور جھلا مسکرایا اور کہنے لگا میں کچھ بھی نہیں کرتا۔ بالکل ویلا ہوں ۔شروع شروع میں تھوڑے سے دھکے کھائے تھے اور ایک دومہینے مزدوری کی تھی ۔ ایک اخبار ڈیلر سے اخبار لے کراسٹیشن پراخبار بیچتا تھا۔ کوئی ٹھکانہ میرے پاس نہیں تھا۔اخبار جلدی بک جاتے تو واپس اخبار ڈیلر جوایک بوڑھی عورت تھی،کے پاس آکر بیٹھ جاتا۔وہ مجھے چائے ،وغیرہ پلاتی اورشفقت سے سر پرہاتھ پھیرتی ۔میں سرجھکائے بیٹھا رہتا کیونکہ مجھے زبان وغیر ہ تو آتی نہ تھی ۔پھر وہ ایک ماہ میں کچھ شدبد ہوگئی تو مس میری لنڈ انے کہا کہ تم اب صرف میرے پاس بیٹھا کر و اور میری باتیں سناکرو۔تب سے میں نے اخبار بیچنا بھی چھوڑ دیا اور بس بڑی اماں کے پاس بیٹھا اس کی باتیں سنتا رہتا ہوں ۔اب اس نے مجھے اپنابنالیا پیسے بھی دیتی ہے کھاناپینا اور رہائش بھی فری ہے ۔

اس کی اپنی اولاد نہیں ہے میں نے پوچھا اس کے دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔مگرسب اس کو چھوڑ کرجا چکے ہیں ۔اگروہ صحت مند اورخود کاروبار کی مالک نہ ہوتی تو بیٹے اسے اولڈ پبلیشز ہاؤس میں داخل کرادیتے ۔پھر وہ گویا ایک خوب صورت قبرستان میں زندہ ہی دفن ہوجاتی ۔فون پرکبھی کبھی وہ اپنے بچوں سے ہیلو ہیلو کرلیتی ہے ۔اپنے پوتوں اور نواسوں کی تصویریں بھی اس کے پاس ہیں ۔وہ مجھے اکثر دکھاتی ہے ۔ان کو یاد بھی بہت کرتی ہے ۔ان کی بے مروتی پراکثر اس کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔مگراب جو کچھ اس نے کہنا ہوتا ہے مجھے کہہ ڈالتی ہے ۔میں اس کی باتیں تو جہ سے سنتا ہوں اوربس منظور نے ساری تفصیل بتادی۔

ایک پاکستانی سیاح اپنے دوست سے ملنے پیرس جاتاہے ۔دونوں سیرکاپروگرام بناتے ہیں۔اچانک فون آجاتا ہے۔فون سن کرفرانسیبی دوست کی پیشانی پرپریشانی اورآنکھوں میں جنھجھلاہٹ ہے ۔وہ اضطراب میں پرس سے سیگریٹ نکال کر پینے لگتا ہے ۔

کیا بات ہے ؟تم فون سن کر پریشان ہوگئے ہو۔

اولڈ پیپلز ہوم (بوڑھوں کا گھر )کی منیجر کا فون آیا ہے ۔وہ کہتی ہے کہ تمہاری ماں بہت بے چین ہے تم اسے آکر مل جاؤ ۔میں کیسے جاسکتا ہوں ہمارے پروگرام کا بیڑا غرق ہوجائے گا ۔پھر میری ماں گھر آنے پر اسرار کرے گی ۔میں صبح دفتر اور شام کوکالج جاتاہوں پھر گھر میں زائد آدمیوں کی گنجائش بھی نہیں۔

کوئی بات نہیں ہم پروگرام میں تھوڑی سی تبدیلی کرلیتے ہیں۔پہلے تمہاری ممی سے ملیں گے پھر ساحل پر چلیں گے ۔پاکستانی دوست نے مشورہ دیا۔

اولڈ پیپلز ہاؤس سر سبز پہاڑی پربنی تما م ترسہولتوں سے آراستہ ایک خوبصورت عمارت ہے ۔ماں نے بیٹے کودیکھا تولپٹ گئی ۔پھر اصرار کرنے لگی کہ بیٹا اسے یہاں سے لے جائے وہ اسٹور روم میں پڑ ی رہے گی ۔کسی پروگرام میں مخل نہیں ہوگی ۔سوداسلف لادیا کرے گی ۔کھاناپکا کر رکھے گی ۔اسے ایک ملازمہ ہی سمجھ لیاجائے۔

اوریہ کیاکہتی ہے پاکستانی سیاح نے پوچھا۔وہ میرے بھائی یعنی اپنے بیٹے کی شکایت کررہی ہے کہ اس نے دوسال سے اپنی شکل نہیں دکھائی ۔وہ ایک عرصے سے اپنے پوتے پوتیاں کونہیں دیکھ سکی ۔ماں کوان سے بڑا پیار ہے۔وہ واپس ہونے لگے تو ایک بڑے میاں نے پاکستانی سیاح سے پوچھا کیاتم لوگوں نے بھی بوڑھوں کے لیے اس طرح کے گھر بنائے ہوئے ہیں نہیں ہمارے ہاں ایسانہیں ہوتا وہ شروع سے آخر مرتے دم تک ہمارے درمیان رہتے ہیں اورہم ان کی خدمت کرکے راحت محسوس کرتے ہیں ۔ تم یقینا ً ہم سے زیادہ مہذہب لوگ ہو۔بوڑھے نے گلوگیر لہجے میں کہا۔

یہ ان لوگوں کا اعتراف اورخراج تحسین ہے جس کی تہذیب اپنانے کے لیے ہم اپنے جالے سے باہرہوئے جارہے ہیں عزت ،غیرت ،قوم ،ملک ،زبان اور مذہب بھی داؤ پرلگاچکے اسی لیے ہم بھی ان سے یک جہتی کے اظہار کے لیے مدرڈے منانے کی رسم اداکرنے لگے ہیں ۔ماں سے اظہار محبت واحترام رسم نہیں ہے ہمارے مالک کاحکم ہے اورصدیوں سے ہماری فطرت میں رچابسا ہے ۔ڈالروں کی فراوانی موبائل فونوں کی کثرت منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنا اور ناچ گانا ہماری تہذیب نہیں ۔ ماں باپ کے لیے سال میں ایک دن نہیں ساری زندگی ان کے قدموں میں گزارنا خوش بختی اورمہذب ہونے کی علامت ہے ۔صرف دن منانے والوں کی زندگیوں کانجام کیسے ہوتا ہے؟ایک مغربی دانشور بوڑھے سے پوجھ لیں وہ اپنی اولاد سے شکوہ کرتے ہوئے کہتاہے :

شروع شروع میں جب وہ ہمیں اولڈہاؤس میں داخل کراتے ہیں تو ہرویک اینڈ پرملنے آتے ہیں ۔پھر اس میں وقفہ آنے لگتا ہے اور ایک مہینے بعد اپنی شکل دکھاتے ہیں ۔پھر وقفہ لمباہوجاتاہے تو صرف کرسمس پرملاقات ہوتی ہے کچھ عرصے بعد بجائے ان کے کرسمس کارڈ وصول ہوتاہے ۔پھرایک دن اطلاع ملنے پر وہ میت وصول کرنے آجاتے ہیں۔

گو ہمیں یہاں (اولڈہاؤس )ہرطرح کی سہولت اور آسائش حاصل ہے لیکن ہم اپنے بچوں کی شکلیں دیکھنے کو ترس جاتے ہیں ۔پہلے پالتو جانور رکھنے کی اجازت تھی لیکن اب انتظامیہ نے اس پر بھی پابندی لگا دی ہے ۔اب کئی مائیں گڑیوں کوتھپکیاں دے کرسلاتی ہیں ۔ہم تمہیں ہنستے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہمارے قہقہے کھوکھلے ہیں اورہمارے سینوں میں چیخیں رکی ہوتی ہیں۔جب یہاں کسی کا کوئی ملاقاتی آتاہے توتھوڑی دیر کے لیے ہمارے چہروں پررونق آجاتی ہے اور اس کے بعد ہم پھر غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوپ جاتے ہیں۔

پھروہ ہمیں مشرقی لوگوں کوکہتا ہے اگرتم لوگوں کابھی صنعتی ترقی کے دورسے گزر ہوا تو اس کی نعمتوں سے ضرور بہرہ درہونا لیکن اس کے لیے ان نعمتوں کی قربانی نہ دینا جن کاکوئی بدل نہیں۔

مولانا قاری منصور احمد

اخبار “ضرب مومن”

25 جمادی اولی تایکم جمادی الثانی 1429ھ مطابق 30مئی تا 05 جون 2008ء