حالاتِ حاضرہ

چلے جملے

چلے جملے

سیاسی زندگی میں پہلی مرتبہ ایک ایسا مفیدجملہ  منظر عام  پرآیاہے جس کی افادیت کے ہزار پہلو ہیں۔ ہمہ قسم الجھے ہوئے مسائل  جوٹیڑھی  کھیرکی طرح قوم یاسیاست دانوں  کے گلے میں اٹکے  نظر آتے ہیں۔ اس جملے سے نرم اور ٹھنڈی میٹھی  کھیر کی طرح ہضم ہوجاتے ہیں ۔ہرالجھن  کی سلجھن  اور ہر ناقابل  حل کاحل  موجودہے۔نامکمل بات مکمل معلوم ہوگی  اور ناقص رائے وزن دار ہوجائے گی۔

ادیبوں کے ہاں تو اس قسم کے چلتے جملے بہت زیادہ  چل جاتے ہیں اورپھر سالوں چلتے رہتے ہیں ۔پندرہ بیس سال  پہلے یہ جملے  فرق تو اس سے مگرپڑتانہیں  ہے کوئی منظر  یہ آیا تھا۔لکھنے والے  کادعوی تھاکہ اس جملے  کوکسی تحریر  کسی بیان ،کسی خبر ،کسی شعر ،کسی مکمل یاناممکن  بات کے آخر  میں لگادیں  تو ان شاء اﷲبہت  مفرح قلب ودماغ ہوگا۔مثلا ڈاکوؤں نے مسافربس کولوٹ  لیا۔مزاحمت  کرنے پرایک  مسافرکو گولی  ماردی ۔فرق تو اس سے مگرپڑتا نہیں ہے کوئی۔

ملازمتوں پرپابندی  لگادی  گئی ۔فرق تو اس سے مگر پڑتانہیں ہے کوئی ۔قائداعظم  کافرمان  ہے کام ،کام  اورکام !  فرق تو  اس سے مگر پڑتانہیں  ہے کوئی ۔1973ء کاآئین  سب جماعتوں  کامتفقہ  آئین  ہے فرق تو اس سے مگرپڑتانہیں ہے کوئی۔

ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں۔مگرفرق  تو اس سے بھی پڑتا نہیں ہے کوئی۔

امریکا کاخلائی جہاز چاند پر اترگیا ۔مگرفرق تواس سے پڑتا نہیں ہے کوئی۔

ہم نےاٹیم بم  بنالیاہے مگرفرق تو اس سے پڑتا نہیں ہے کوئی۔

مندرجہ  بالاجملہ تو  اچھاخاصابامعنی جملہ ہے  مگرفرق تو اس سے بھی نہیں پڑتا کہ جملہ سرے سے مہمل ہو۔اس کاکوئی سر پیرنہ ہو۔پھربھی آپ ہرجگہ فٹ کرسکتے ہیں۔مثلا  زبناک  تریہانک زبناک  تریہا  یہ جملہ عطاء الحق  قاسمی یاان کے  حلقہ احباب میں سے کسی نے تراشا تھا۔معنی  اورمفہوم  تواس کے کیاہوتے؟ یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ یہ کس زبا ن  کے الفاظ ہیں ؟لیکن آپ اسے کہیں بھی فٹ کرکے دیکھیں  مزاآجائے ہے؟ گامثلا تندی بادمخالف  سے نہ گھبرا اے عقاب  زبناک  تریہالک زبناک تریہا ؟

ہم تمہیں  پاپڑنہیں دیں گے۔یہ بھی بہت کارآمد محسوس ہوا تھامثلا ایران  نے اپنااٹیمی  پروگرام  بندنہ کیا تو ہم اسے پاپڑ نہیں دیں گے۔

اگر شیخ اسامہ  کوہمارے حوالے نہیں کیاگیاتو ہم آپ کو پاپڑ نہیں دیں گے۔

لیکن سیاسی میدا ن میں جوجملہ  شریک چیئرمین  نے وضع  کیاہے یہ کون ساقرآن  وحدیث ہے؟ اس کابھی  جواب نہیں  اس جملے کے استعمال کے ساٹھ سال سے ملک کو درپیش مسائل چٹکی  بجاتے ہی حل ہوجائیں گے ۔یہ جملہ  عدلیہ کی بحالی  کے ضمن میں کیے گئے معاہدے کوپورانہ کرنے پرصادر ہواتھا ۔ اب آگے  سارے معاملات  کے لیے تیر بہدف  ہے ۔اس جملے کاپہلا شکارمری میں ہونے والا  تحریری معاہدہ تھا۔اب آگے دیکھیے۔

عوام نے ہمیں روٹی کپڑامکان  کے لیے ووٹ دیے ۔یہ کون ساقرآن وحدیث ہے؟

تین نومبر  کااقدام  غیرآئینی تھا۔ اسے منسوخ  ہونا چاہیے یہ کون ساقرآن وحدیث  ہے؟

اتحادی جماعتوں کے مشورے کے بغیرخود کوصدارتی امیدوار قرار دینا درست نہیں ۔یہ کون ساقرآن  وحدیث  ہے؟

رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کافیصلہ کیا  گیاتھا۔یہ کون  ساقرآن وحدیث  ہے؟

رمضان میں چیزوں کی قیمتیں  نہیں بڑھائی جائیں گی ،حکومت کااعلان ۔یہ کون ساقرآن وحدیث  ہے؟

ہمیں  امریکا کی جنگ اپنےملک میں نہیں لڑنی چاہیے ۔یہ کون ساقرآن وحدیث ہے؟

ہتھیار  ڈالے بغیرطالبان کے ساتھ کوئی بات چیت  نہیں ہوگی ۔یہ کون ساقرآن وحدیث  ہے؟

بحرہند میں لنگر انداز بحری بیڑے  میں پاک امریکا جرنیلو ں کی انتہائی خفیہ ملاقات ۔یہ کون سا قرآن وحدیث  ہے؟

1973ء کاآئین بحال کیاجائے ۔یہ کون ساقرآن وحدیث ہے؟

اے  طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی  جس رزق  سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی  یہ کون ساقرآن وحدیث ہے؟

قرآن میں رمضان کے اندرمہنگائی  اور لوڈشیڈنگ  کے ختم کرنے والی کوئی بات نہیں ہے ۔ہاں افطار پارٹیوں  میں کوئی حرج نہیں اوریہ کون ساقرآن وحدیث میں ہےکہ اگرآدمی  روزہ نہ رکھے تو افطاری  بھی نہیں کرسکتا۔بالکل کرسکتاہے بلکہ جب چاہے افطاری  کرسکتا ہے۔عدلیہ کی بحالی،چوہدری  افتخار  اوردیگر باتیں بھی قرآن وحدیث میں نہیں ہیں،اس لیے رمضان میں وکیلوں  سمیت سب چپ کاروزہ رکھیں۔

مولاناقاری منصور احمد

اخبار“ضرب مومن”

03تا09رمضان المبارک 1428ھ مطابق 05تا11 ستمبر2008ء