حالاتِ حاضرہ
ڈاکو اور بتی
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 476
ڈاکو اور بتی یوں تو موبائل فونوں پرمیسج بھیجنے کے لیے باقاعدہ کتابیں چھپ گئیں ہیں اور بعض کوٹیکسٹ بک کا درجہ بھی حاصل ہے ۔اس کے باوجود روزانہ گردش کرنے والے میسج تازہ صورت حال پررواں تبصرے کےساتھ ساتھ عوامی رحجان کی عکاسی بھی کرتے ہیں ۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ مایوسی اور پریشانی کے باوجود پاکستانی عوام کی حس مزاح زندہ ہے اور وہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی جینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔مثلا :چند دن قبل یہ میسج موصول ہوا:
2015ء میں منعقد ہونے والے سیکنڈری بورڈ کے سالانہ امتحان کے سوالیہ پرچے کاایک نمونہ ۔ سوال نمبر 1: پاکستان کے کون کون سے شہرمیں بجلی پائی جاتی ہے؟ سوال نمبر2: پیٹرول کن چیزوں میں استعمال ہوتاہے؟ سوال نمبر3:چینی کاذائقہ کیساہوتاہے؟ سوال نمبر4:خودکش حملہ آور پرتفصیلی نوٹ لکھیے ۔ سوال نمبر5: بینکوں سے قرضہ لے کرواپس نہ کیاجائے تو اس سے مقروض کی زندگی پرکیاخوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ سوال نمبر6: مندرجہ ذیل میں کیافرق ہوتا ہے :مثالوں سے واضح کریں ۔ (i)فوجی آمر اورجمہوری آمر۔ (ii)سلیکشن اور الیکشن ۔ (iii)ہاتھی اور چیونٹی کے پاؤں۔ کلاس روم میں ٹیچر نے پوچھا:سب سے تیز رفتار پرندے کانام بتاؤ۔ جناب ہاتھی ایک لڑکا زور سےبولا ۔نالائق تمہارا باپ کیاکرتاہے ؟ٹیچر غصے سے تلملایا ۔جی وہ طالبان کے ساتھ ہوتے ہیں ٹھیک ہے شاباش تم نے بالکل درست جواب دیاہے ہاتھی ہی سب سے زیادہ تیز رفتار پرندہ ہے۔دودن پہلے ایک میسج موصول ہوا: آؤباتیں کریں ۔پیارے پاکستان کی پیاری باتیں ۔ بتی (بجلی)چلی گئی اے بتی آگئی اے بتی جان والی اے بتی آن والے اے بتی نہیں آئی بتی نہیں گئی بتی جاوی سکدی اے بتی آوی سکدی اے بتی DIMآرہی اے بتی آکیوں نہیں رہی بتی جاکیوں نہیں رہی او بتی آگئی ہماری پچھلی گلی میں چھوٹے بڑے سب ایک کمرے میں بیٹھے بتی آنے کاانتظار کررہے تھے اور اس طرح کی پیاری پیاری باتیں کررہے تھے کہ بجلی آگئی۔سب بچوں نے پرجوش نعرہ لگایا اوبتی آگئی ساتھ ہی کمرے کادروازہ کھلا اورکلاشن کوف تھامے نقاب اوڑھے ایک ڈاکو بھی آگیا بتی آجانے کے باوجود سب کی آنکھوں پر اندھیرا چھاگیا۔ڈاکونے سب سےپہلے سلام کیا اور پھربڑے پیار سے کلام کیا۔وہ کلام یہ تھا :۔ خاموش رہنا دانائی ہے دوسروں کودینا بھلائی ہے اس لیے سب سے پہلے جس جس کے پاس موبائل اور نقدی ہے وہ اﷲکوحاضر ناظر جان کر پوری ایمان داری سے میرے ساتھی کی جھولی میں ڈال دے۔دوسرا ساتھی آگے بڑھا اور بجائے دامن پھیلانے کے ایک خوبصورت شاپر میں سب مال وزر سمیٹ لیا پھر اہل خانہ میں سب سے زیادہ سمجھ دار راہبر کو ساتھ لیا اور دوسرے تمام کمروں کوکھنگال کر ضروری اور کار آمد شیا کوالگ کیا ۔کچن میں سے نیا ڈنر سیٹ اور ریفریجر یٹر سے مشروبات کی پانچ بوتلیں تین کلو دیسی گھی اور تازہ مکھن کاپیٹرا بھی بحفاظت ایک دوسرے شاپر میں منتقل کیا ۔شادی کے لیے لائے گئے نئے سوٹ اور زیور کوالگ بیگ میں محفوظ پھر فون کرکےایک موٹر سائیکل منگوایا اور دوپھیروں میں تمام سامان کوعافیت کے ساتھ منتقل کردیا آخر میں اہل خانہ کوالوداعی ہدایات دیں اور رخصت ہوگئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ جاتے جاتے گلی سے گزرنے والے تین نوجوانوں کودست شفقت سے نوازا ۔ان سے موبائل فون لے لیے کہ آوارگی کاذریعہ ہیں۔ جوں ہی ڈاکوگئے بتی چلی گئی اس لیے پیارے پاکستان کی پیاری باتوں میں نئے آئمٹز شامل ہوگئے۔ بتی آگئی اے ۔۔۔۔۔تے ڈاکو بھی آگئے نے ڈاکو چلے گئے نے۔۔۔۔۔تے بتی بھی چلی گئی اے بتی فیر آسکدی اے ۔۔۔۔۔تے ڈاکو بھی فیر آسکدےنے گویا ڈاکو اوربتی اب لازم وملزوم ہیں۔اب آپ خودسوچ سمجھ کرفیصلہ کرلیں ،کیا چاہیے؟ ڈاکو یابتی ۔۔۔۔؟بتی یاڈاکو۔۔۔؟ دونوں چاہییں یادونوں نہیں چاہییں؟ توپھر بتی جانے پرچپکا کیوں مارتے ہو؟اور ڈاکو آنے پر چپ کیوں سادھ لیتے ہو؟بولو ۔۔۔۔کچھ تو بولو! مولانا قاری منصور احمد اخبار“ضرب مومن” جمعہ 13تاجمعرات 19صفر 1431ھ بمطابق جمعہ 29جنوری تاجمعرات 04تافروری 2010ء


