حالاتِ حاضرہ
ہمدردی یا بغض کا اظہار
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 460
ہمدردی یا بغض کا اظہار
جمعہ 3اپریل کو تمام ٹی وی چینلز وہ وڈیو دکھا رہے تھے جو کسی سازشی ذہن نے انہیں بیک وقت بھیجی تھی۔جس میں مبیّنہ طور پر سترہ سال کی ایک لڑکی کو چند لڑکوں کے ہاتھوں کوڑوں سے پٹتے اور درد سے چلاتے ہوئے دکھا یا گیا تھا۔ فوراًیقین کرلیا گیا کہ یہ وڈیو سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے ۔ وہ لڑکی معصوم اور پاک دامن تھی ۔اس پر کوڑے برسانے والے طالبان اور مولویان تھے ۔ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر ایک عفیفہ کو وحشت و سربریت کا نشانہ بنایا ۔ یہ وڈیو دیکھ کر ان لیڈروں پر شادئ مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئ جو ہر وقت اسلام اور اس کے خادموں کے خلاف غیض و غضب کے اظہار کے بہانے کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ چنانچہ 4اپریل کے اخبارات ان لیڈرانِ کرام کے دھواں دھار بیانات سے دہک رہے تھے ۔ کوئی طالبان کو سفاک اور ننگِ انسانیت قرار دے رہا تھا۔ کوئی علماء پر پھبتیاں کس رہا تھا ۔ کسی نے کوڑے مارنے کو غیر انسانی فعل قرار دیا اور کسی نے اشاروں کنایوں میں حدودِ الٰہیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو حقوق ِ نسواںکا سب سے بڑا چمپئین ثابت کرنےکی جدو جہد کررہا تھا ۔ ان لیڈروں میں ایسےبھی تھے جو اس وقت خاموش رہے تھے جب اخبارات میں سندھ کی ایک حاملہ بیٹی کے بارے میں خبر شائع ہوئی تھی کہ اس پر کتے چھوڑے گئے ۔ا س کا حمل زبردستی ضائع کر وایا گیا اور اسے بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا ۔ اس وقت بھی حقوقِ نسواں کے ان علمبرداروں نے احتجاج کرنا مناسب نہ سمجھا جب میڈیا نے بلوچستان کی سردار کے ہاتھوں چار خواتین کے زندہ درگور کیے جانے کی خبر نشر کی ۔ اس المیے کے ایک کردار نے ببانگِ دہل ایوانِ بالا میں اسے قومی روایت قرار دیا ۔ اس شرمناک بیان پر بازپرسی کی بجائے اس سردار کو وزارت کے تمغے سےنواز کر گویا خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔
اس وقت بھی قوم کے ان غم خواروں کو سانپ سونگھ گیا جب ایک نومسلم خاتون نے تحقیق و تفتیش کے بعد بگرام کے بندی خانے میں فلک شگاف چیخیں لگانے والی ایک مظلومہ کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ پاکستانی ہے اور صدیقی خاندان سے ا س کا تعلق ہے ۔ مسلسل پانچ سال سے اسے ذہنی، جسمانی اور جنسی طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے ۔ پھر اسے امریکا منتقل کردیا گیا ۔ جہاں آج بھی وہ موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا پاکستانی لیڈروں کے اجتماعی ضمیر کی بیداری کا انتظار کررہی ہے ۔ اور وہ دن تو قیامت سے کم نہ تھا جس دن شب و روز قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا اور طالبات کو کئی دن تک بھوک پیاس سے تڑپانے کے بعد فاسفورس بموں سے زندہ جالا دیا گیا ۔ آگ کے شعلوں میں گھری ہوئی معصوم بچیوں کی چیخیں دور دور تک سنائی دے رہی تھیں مگر نہ تو آگ برسانے والوں کا دل پسیجا اور نہ ہی عورت کی مشکوک قسم کی بے حرمتی پر سراپا شعلہ بن جانے والوں نے کوئی احتجاج کیا ۔
ہم اسے “مشکوک بے حرمتی ” اس لئے قرار دے رہے ہیں کیونکہ تحریک ِ طابان کے ترجمان ہی نے کوڑے مارنے کی وڈیو کو جعلی قرار نہیں دیا بلکہ سرحد کے وزیرِ اعلی نے بھی کہا ہے کہ کوڑے مارنے والی وڈیو کہیں اور فلمائی گئی تھی جبکہ کمشنر ملاکنڈ اﷲ کی قسم کھا کر کہتے ہیں یہ وڈیو قطعاً جعلی ہے ۔ سوات کےمکین بھی اسے ڈرامہ کہتے ہیں ۔ ایسے ڈرامے ہمارے ساتھ اس سے پہلے بھی ہوچکےہیں ۔ طالبان کے دور میں افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے بھی اسی قسم کی وڈیو انٹر نیشنل میڈیا پر خو ب دکھائی گئی تھی ۔ اس فلم میں دکھایا گیا تھا کہ ایک مرد ایک برقعہ پوش خاتون کو لاٹھیوں سےمار رہا ہے ۔ مغربی اداروں کی تحقیق پر ایمان لانے والوں کے نزدیک اس فلم کی سچائی کےلئے یہی بات کافی تھی کہ یہ فلم ایک بڑے عالمی نشریاتی ادارے کے رپورٹر نےبنائی تھی اور اسے اس “کارنامے ” پر کئی ایوارڈ بھی دیے گئے تھے ۔ جب تشدد پر مبنی اس قسم کی فلموں کی آڑ میں امریکا افغانستان میں لاکھوں کا خون بہا چکا تو خود مغربی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا کہ یہ فلم کسی حقیقی واقعے کی عکاس نہیں تھی بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور شوٹنگ کے لئے مرد اور خاتون کو راضی کیا گیا تھا ۔
اسی طرح کی عکس بندی چھ سال قبل بلوچستان کےپہاڑوں پر بھی کی گئی تھی جہاں یورپ کے گورے اور گوریاں طالبان کے ظلم و ستم پر مبنی فلم تیار کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے ۔ اس مقصد کے لیےانہوں نے مقامی باشندوں کو بطور اداکار بھرتی کررکھا تھا اور انہیں ڈالروں میں ادائیگی کی جارہی تھی ۔ حالیہ وڈیو کے بارے میں بھی ایسے ماہرین کی رائے جن کی زندگی کا بڑا حصّہ ٹیلی ویژن کے ڈرامے لکھنے ، انہیں ریکارڈ کراتے اور انکی ایڈیٹنگ کرتے گزرا ہے ، یہ ہے کہ یہ کسی ایسے شخص نے بنائی ہے جس نے اپنی خباثت کو کمالِ مہارت سے استعمال کیا ہے ۔ تہ در تہ خدشات او ر شبہات میں لپٹی ہوئی اس فلم کے ٹی وی پر نشر ہوتے ہی ان ماہرین او رمبصرین کی لائن لگ گئی جن کی نظر میں ہر داڑھی والا مجرم تھا اور ہر پگڑی اور ٹوپی ولا طابان کا ساتھی ۔ شام ہونے تک یہ موضوع دوکانوں ، مارکٹوں اور دفتروں میں زیر ِ بحث آچکا تھا ۔ مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد زہریلے تبصر وں اور سوالات کی زد میں تھے ۔
یوںمعلوم ہوتا تھا کہ سترہ سالہ لڑکی کو طالبان نے کوڑے نہیں مارے بلکہ کراچی او ر لاہور کے مولویوں ، تبلیغیوں ، صوفیوں ، طالب علموں اور نمازیوں نے مارے ہیں۔ دو چار باریش افراد کی وجہ سے ہر داڑھی والا زیرِ عتاب تھا حالا نکہ ان افراد کی داڑھی کے بارے میں اصلی یا فرضی ہونے کا فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ مذہبی فکرو عمل رکھنے والے افراد کے ساتھ بعض دریدہ دہنوں نےمذہب کو بھی نشانہ بنانے کی ناپاک جسارت کی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چودہ سو سال پرانی شریعت کو دل و جان سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں اس میں پیوند کاری کی ضرورت محصوص کرتے ہیں ۔ جن مذہبی رہنماؤں نے محض مسلکی اختلاف اور فرقہ وارانہ تعصّب کی بنا پر مذہب بیزار دانش وروں کی ہاں میں ہاں ملائی وہ اپنی سادگی یا جہالت کی وجہ سے یہ نہ سمجھ سکے کہ واقعۂ سوات پر گز گز کی ز بانیں استعمال کرنے والوں کو سوات کی کسی مظلوم لڑکی سے ہمدردی نہیں بلکہ ان کے دلوںمیں بذہبی طبقے کے لئے شدید قسم کا بغض پوشیدہ ہے جو اظہار کے لئے کسی بہانے کی تلاش میں رہتا ہے ۔ ان کا بس چلے تو وہ ان مولویوں اور مذہب پسندوں کا نام و نشان مٹادیں جو اس ماڈرن زمانے میں اسلامی نظام اور قرآنی حدود کے نفاذ کی بات کرتے ہیں ۔ ان کی نظر میں نائن الیون کے تین ہزار ہلاک شدگا ن کے قاتلوں کی تلاش میں بیس لاکھ انسانوں کاخون بہانا عین انصاف ہے جب کہ چور کے ہاتھ کاٹنا اور بدکار کو کوڑے مارنا وحشت و سربریت کے سوا کچھ نہیں ۔ ان میں ایسے بھی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ روایتی علماء کے مقابلے میں کتاب و سنت کا زیادہ علم رکھتے ہیں۔یہ مدعیان ِ علم کوڑے مارنے کو خلاف ِ شرعیت قرار دیتے ہیں جبکہ کوڑے مارنے والوں کے لئے ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں پھانسی دی جائے ۔ غالباً ان کی شریعت میں کوڑے مارنے کی سزا یہی ہے ۔
مولانا محمد شیخو پوری
اخبار “ضربِ مومن ”
جمعہ 20تا جمعرات 26ربیع الثانی 1430ھ بمطابق جمعہ 17تا جمعرات 23اپریل 2009ء


