حالاتِ حاضرہ
امریکی فوج سے قدرت کا انتقام
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 1086
امریکی فوج سے قدرت کا انتقام
یاسرمحمدخان کی تحقیق
عراق اور افغانستان سے واپس آنے والے فوجی لاعلاج نفسیاتی عوارض کا شکار ہیں ڈینور(Danver)امریکہ کا مشہور شہر ہے، ہم اگر اس شہر کے جنوب میں سفر کریں تو شہر سے 60کلو میٹر کے فاصلے پرایک پہاڑی سلسلہ آتا ہے، اس سلسلے کو“کولوراڈواسپرنگ” کہاجاتاہے۔ یہ کولوراڈواسپرنگ امریکا کامشہور فوجی مستقر ہے۔ امریکہ نے جب2002ء میں عراق پرحملے کافیصلہ کیا تو سب سے پہلے اس مستقر سے فوجی خلیج بھجوائے گئے۔ یہ فوجی کویت ،مسقط اورسعودی عرب میں تعینات ہوئے۔عراق میں صدام حسین کی حکومت ختم ہونے کے بعد “کولوراڈوا سپرنگ” کے جوانوں نے بغداد اور اس کے مضافات میں قبضہ کرلیا۔ یہ لوگ طویل خدمات کے بعد 2004ء میں ڈینور واپس لوٹنا شروع ہوئے۔ اس وقت تک 12ہزارفوجی اورافسرواپس کولوراڈوا سپرنگ آچکے ہیں۔ کولوراڈواسپرنگ چھاؤنی کی مشہوریونٹ“فورٹ کارزن” کل ایک افسرکینتھ لی اپریل میں چھٹیوں پرگھرگیا۔ اس کا خاندان (Lowa)اسٹیٹ کے ایک قصبے(Keokuk)میں آباد ہے۔ اپریل کی اک روشن صبح کینھ لی قصبے کے ایک بینک میں داخل ہوتے ہی فائرکھول دیا، بینک میں افراتفری مچ گئی،لوگ ایک دوسرے کے اوپرگرگئے ،خوش قسمتی سے اس فائرنگ سے کوئی شخص ہلاک تو نہیں ہواتاہم پورے قصبے میں ہراس پھیل گیا، پولیس نے کینھ لی کوگرفتار کرلیا۔ جب تفتیش شروع ہوئی توکینتھ لی کے بیان نے تفتیشی افسروں کے دماغوں کی چولیں ہلا دیں کیونکہ کینھ لی بینک لوٹنے کی نیت سے وہاں گیاتھا اورنہ ہی وہ لوگوں کو قتل کرنا چاہتا تھا، وہ صرف ہراس پھیلانا چاہتا تھا، اس کی خواہش تھی کہ وہ کوئی ایسی حرکت کرے جس کے نتیجے میں اسے گرفتار کرلیا جائے۔ یہ ایک عجیب وغریب رویہ تھا جس کی توقع کینتھ لی جیسے فوجی افسر سے نہیں کی جاسکتی تھی۔ کینتھ لی کی رپورٹ جب کولورا ڈوا سپرنگ پہنچی تووہاں بھی کہرام مچ گیا۔ پینٹا گون نے ایک لمباچوڑامیڈیکل بورڈ تشکیل دے دیاجس نے کولوراڈواسپرنگ کے فوجیوں اور افسروں کاطبی معاینہ شروع کردیا۔
اس معانیے کے دوران معلوم ہوا کہ عراق سے واپس لوٹنے والے تمام افسر اور جوان گونا گوں نفسیاتی امراض کاشکار ہیں۔ ان 12ہزار افراد میں سے دماغی لحاظ سے ایک بھی متوازن شخص نہیں۔ یہ تمام لوگ خود کشی کے رحجان ذہنی خلجان، ڈپریشن، اینگزائٹی اورتشدد کی عادت کے شکارہوچکے ہیں۔یہ تمام لوگ نشہ آورادویہ اور شراب کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور دوسرے روز شدید اینگزائٹی اورڈپریشن کا شکارہوجاتے ہیں۔ کولوراڈواسپرنگ کی انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگانے کا کام اسٹیورابن بن (Steve Robin son)کو سونپ دیا۔ رابن سن ایک ریٹائرڈ آرمی افسرہےاوراس وقت “نیشنل گالف وارری سورس سنیٹر” کے ایگزیکٹوڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کررہا ہے۔اسٹیورابن سن اور اس کی ٹیم نے کولوراڈواسپرنگ کے بے شمار فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے انٹرویوز کئے،ان انٹرویوز کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ اب تک اس چھاؤنی کے23 جوان اورافسر خود کشی کر چکے ہیں۔ اسٹیوکاکہناتھا:“پہلی خلیجی جنگ کے دوران فوجیوں میں ڈپریشن کی شرح 6فیصدتھی لیکن اس باریہ شرح 14فیصد کو عبور کرچکی ہے۔”اس کاکہناہے “کولوراڈواسپرنگ کے وہ 12ہزار فوجی جو عراق سے واپس لوٹے ہیں وہPost-Trmumatic Strees Disorder کا شکار ہوچکے ہیں۔اس بیماری میں مریضوں کو شدید غصہ آتاہے میں اور غصے کی اس لہر کے دوران وہ خود کو گولی مارلیتے ہیں یاپھر اپنے حریف کوقتل کردیتے ہیں۔”اس کا کہنا ہے “اس سال ایک لاکھ امریکی فوجیوں کی واپسی متوقع ہے جس سے یہ خدشہ پیدا رہا ہے PTSDکی شرح میں مزید اضافہ ہوجائے گاجس کے نتیجے میں امریکی فوج کوشدید نقصان پہنچے گا۔”
اسٹیورابن سن نے بڑے دلچسپ کیس دریافت کئے،اس نے چیف وارنٹ آفیسر ولیم ہوویل کاحوالہ دیا۔ولیم ہوویل مارچ2004ء میں عراق سے واپس“فورٹ کارزن” آیا تھا،اس نے اپنی آمد سے3ہفتے بعد اپنی بیوی کی پٹائی کی ،بیوی نے جواب میں اس پرحملہ کیا تو اس نے اپنا 357 بورکاریوالور نکالا اور اپنی بیوی کی کنپٹی پررکھا اور اسے دھمکی دی:“اگرتم نے اونچی آواز میں سانس بھی لی تومیں تمہاری کھوپڑی اڑادوں گا ۔”بیوی ڈر گئی ،اس کے بعد ولیم ہوویل نے ان تمام عراقی خواتین کے نام لئے جن کے ساتھ زیادتی کی تھی، اس نے عراقی عوام پر چلائی جانے والی گولیاں بھی گنیں اور اس کے ریوالور بیوی کی کنپٹی سے اٹھا کر اپنی پیشانی پررکھا اور ٹرائیگردبادیا۔ ایک دھماکا ہوا اورولیم ہوویل کابھیجہ اڑگیا۔
لیفٹنینٹ برینڈن راٹ لف (Lt-Brandon Ratliff)طویل عرصہ افغانستان میں رہا،وہ بھی مارچ میں کولوراڈواسپرنگ واپس آیا۔ اس کا خاندان اوہائیواسٹیٹ کے شہر کولمبس میں آباد تھا ، وہ چھٹیاں گزارنےکولمبس گیاوہاں اس نے ایک صبح خود کو گولی مارلی۔ کولمبس ہی میں ایک روز پولیس کو ایک لاش ملی جسے بری طرح قتل کیاگیا تھا،مقتول کے پورے جسم پر چاقوؤں کے زخم تھے، قتل کے بعد اس کا پیٹ بھی چاک کیاگیا تھا۔پولیس نے دیکھا قاتلوں نے مقتول کی کھوپڑی تک میں خنجر مارے تھے ،نعش کی تفتیش ہوئی تو پتہ چلا کہ مقتول کاتعلق آرمی سے تھا اور وہ حال ہی میں عراق سے واپس امریکا لوٹا تھا۔قتل کا سراغ لگایا جانے لگا،شام تک پولیس قاتلوں تک پہنچ گئی اس کے قاتل اس کے چار فوجی بھائی تھے یہ پانچوں رات کو اکٹھے شراب پی رہے تھے ،نشے کے عالم میں ان کامقتول سے جھگڑا ہوگیا۔ چار فوجی ایک طرف ہوگئے اور وہ ایک طرف ان چاروں نے اسے پکڑکرفرش پرلٹا یا اور خنجروں سے اس کا قیمہ بنا دیا ۔
اعلی امریکی حکام لادین ہیں،اگر وہ دیندار ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا یہ نفسیاتی امراض کانہیں قدرت کے عذاب کاشکار ہیں۔اس قسم کی ایک واردات فلوریڈا کے شہر ٹیمپا(TAMPA)میں وقوع پذیر ہوئی، پولیس کوکسی فلیٹ سے ایک جوان خاتون کی نعش ملی، یہ نعش بھی بری طرح مسخ تھی،کسی نے خنجر سے اس کی دائیں ٹانگ اوردائیاں بازوکاٹ دیاتھا،اس کے بعد قاتل نے اس کی بائیں آنکھ ، بائیں بازو،بائیں رخسار اور بائیں کان میں گولی مار ی تھی ۔ پولیس کو فلیٹ کے ایک کونے سے دوسرے کونے اورایک دیوار سے دوسری دیوار تک خون ہی خون ملا۔ یوں محسوس ہوتا تھا قاتل مقتول کو ایک جگہ گولی مارتا پھر اسے دوسری جگہ منتقل کرتا، اسے وہاں گولی یاخنجر کانشانہ بناتا اور اس کے بعد اسے کسی تیسری جگہ منتقل کردیتا تھا۔ لاش کے اردگرد پائے جانے والے آثار سے اندازہ ہوتا تھا ،قاتل نے مقتول کو تڑپا تڑپا کرقتل کیا تھا۔ یہ قتل کی ایک لرزہ خیز واردات تھی۔ “ڈینور پوسٹ”نے اسے کیلی فورنیا کی تاریخ کاسب سے خوفناک قتل قرار دیا ۔پولیس نے تفشتیش شروع کی تو دوسرے ہی روز قاتل گرفتار ہوگیا،قاتل امریکی ائیرفورس سے تعلق رکھتاتھا اور چند ہی ہفتے پہلے مکیڈل ائیربیس سے واپس لوٹا تھا۔مقتولہ اس کی “گرل فرینڈ” تھی ،پولیس نے قاتل سے وجہ قتل دریافت کی تو اس نے پولیس کو بتایا:“میں جب سے عراق سے واپس آیا ہوں پتہ نہیں مجھے کیا ہوجاتاہے ،میں بیٹھے بیٹھے بے قابو ہوجاتاہوں اورمیرا دل کرتا میں سامنے موجود تمام لوگوں کوقتل کردوں اورہرچیز کو تباہ وبرباد کردوں ،اینی نے میرے ساتھ بدتمیزی کی، اس نے مجھے عراقی خواتین کاقاتل کہا تومجھے غصہ آگیا ۔میں نے اسے کہا میں تمہیں بتاتا ہوں میں عراقی لڑکیوں کوکیسے قتل کرتاتھا،میں خنجر لے کر ان اوپرچڑھ جاتا تھا ،ان کے ساتھ زیادتی کرتاتھا، زیادتی کے دوران میں ان کی دائیں ٹانگ میں خنجر گھسیٹردیتاتھا،وہ چیختی تھیں،میں قہقے لگاتا تھا، پھر میں ان کا دایاں بازو کاٹتا تھا،زیادتی کے بعد میں انہیں گھسیٹ کرکمرے کے دوسرے کونے میں لے جاتا تھا اورپھر ان کی بائیں آنکھ ،بائیں بازو ،بائیں رخسار اوربائیں کان میں گولی مارتا تھا ۔میں اینی کواپناطریقہ کار سمجھاتا رہا ،اس دوران میں اسے کب اذیت دینا اورقتل کرنا شروع کیا مجھے نہیں معلوم۔ بس جب مجھے ہوش آیا تو اینی کی نعش خون میں لت پت پڑی تھی اورمیرا پوراجسم خون میں لتھڑا ہوا تھا۔ میں نے غسل کیا ،کپڑے بدلے اورشراب خانے میں چلا گیا جہاں میں پوری رات شراب پیتا رہا ۔”
کولوراڈواسپرنگ کے 12ہزارجوانوں اورافسروں میں تشددعات بن کرظاہر ہورہاہے۔ یہ لوگ ذراذرا سی بات پر مشتعل ہوجاتے ہیں،ایک دوسرے پرچلاتے ہیں،ایک دوسرے کوگالیاں دیتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پرچیزیں پھینکتے ہیں ۔چھٹیوں پریہ لوگ جب گھر جاتے ہیں توان کے خاندان کے لوگ اور پڑوسی ان سے بہت تنگ ہوتے ہیں ۔ایک فوجی کی بیوی نے یونٹ کے افسروں کو شکایت کی:“میرے خاوند کواحانک غصہ آجاتا ہے ،گزشتہ روز اس نے غصے میں چولہے کااوپرحصہ توڑا اورمیرے اوپر گرادیاجس سے میں جل گئی اپریل کے مہینے میں 82ائیربارن ڈویثرن کے ایک فوجی کو پولیس نے گرفتار کرلیا،اس پر اپنی دوسالہ بیٹی نے اپنے والد سے مارکیٹ جانے کی ضد کی اس نے اسے جھٹرک دیا،بیٹی نے رونا شروع کردیا اس کی آواز سے میرا خاوند مزید مشتعل ہوگیا اور اس نے بیٹی تھپڑوں سے پیٹناشروع کردیا ،بیٹی کے لئے اس کا یہ رونا نیاتھا،اس نے چیخ چیخ کرآسمان سر پر اٹھالیا ،ہمارے ہمسائے نے اس کی چیخیں سنیں تو اس نے پولیس بلالی۔
اسی قسم کا الزام جارج کے ایک سارجنٹ پربھی لگا،جارج بھی اپریل میں عراق سے واپس امریکا آیاتھا وہ واش کے قصبے “فورٹ لیوس” میں اپنے خاندان کے پاس چھٹیاں منانے گیا،چھٹیوں کے دوران اس کااپنی بیوی سے جھگڑا ہوگیااور اس نے اسے پانی میں ڈبونے کی کوشش کی، بیوی بچ گئی لیکن جارج اندرہوگیا۔میری کولوراڈواسپرنگ چھاؤنی کی زنانہ فوج میں ملازم ہے ،وہ مارچ میں عراق سے واپس لوٹی ،اس کے خاوند نے میڈیکل ٹیم کے سامنے بیان دیا،“میری بیوی سونے کے دوران اچانک اٹھتی ہے، میرے اوپر چلاتی ہے اورمجھے ٹکریں اورتھوکریں مارنا شروع کردیتی ہے۔چند روز پہلے اس نے جاگتے ہوئے بھی یہ حرکت کی،میں نے اپناجرم پوچھا تو اس نے چلا کر جواب دیا مجھے معلوم ہے تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو ۔”قتل سے یاد آیا چند روز قبل ڈینور میں ایک عجیب واردات ہوئی۔وہ امریکی فوجیوں نے ایک راہ گیر کوقتل کردیا،راہ گیر کی گاڑی خراب ہوگئی تھی،وہ اسے دھکلتا ہوا آرہا تھا،راستے میں اسے دوفوجی جوان ملے،اس بے چارے نے ان سے مدد مانگی وہ مشتعل ہوگئے، اس نے غصے کی وجہ جانناچاہی تو انہوں نے چلا کرکہا :“یوبلڈی سویلین ، یوکنڈناٹ اس سر”(تم اس واہیات عام شہری ،تو نے ہمیں جناب کہہ کرکیوں نہ پکارا تھا)اس نے جواب دیا “لیکن جناب یہ تو کوئی بڑی غلطی نہیں ”وہ دونوں مزید مشتعل ہوگئے اورانہوں نے اسے اسی جگہ گولی ماردی ۔بعدازاں انہیں اپنی غلطی کااحساس ہوا اور انہوں نے اپنی اپنی رائفل سے خود کوبھی گولی مار لی۔
میڈیکل بورڈ کاکہنا ہے ۔“عراق سے واپس لوٹنے والے تمام جوان اورافسر نیند کی کمی،ڈپریشن ،فرسٹریشن اورغصے کاشکار ہیں ۔ان میں خودکشی کاخطرناک رحجان پیداہوچکاہے ،یہ لوگ کثرت سے شراب نوشی کے عادی ہوچکے ہیں چنانچہ ان میں سے بے شمار لوگ اب فوج میں ملازمت کے اہل نہیں ہیں۔لیکن انہیں سردست فوج سے نکالنا بھی ممکن نہیں کیونکہ یہ لوگ گھروں میں واپس جاکرفساد پھلائیں گے،ان کے نفسیاتی عوارض پوری سوسائٹی کوبیمارکردیں لہذاانہیں ملازمت سے برخاست کرنے سے پہلے ان کاعلاج ضروری ہے لیکن یہ علاج کیسے ہوگا یہ ان کی سمجھ سے بالاترہے۔” امریکی فوج لیکن ان کی اصل پریشانی تو اس وقت شروع ہوگی جب اس سال کے آخرتک مزید88 ہزار فوجی امریکا واپس پہنچیں گے۔کولو راڈواسپرنگ کے طبی مراکز کی انچارج مس براؤن بھی اسی خدشے کاشکار ہے،اس کا کہناہے۔“ہمارا اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب باقی فوجی واپس پہنچیں گے کیونکہ یہ لوگ اپنے ساتھ تشدد، خودکشی اورقتل کے رحجانات لائیں گے۔” مس براؤن اور اس کے سنیئرلادین قسم کے لوگ ہیں ،یہ لوگ اگر دیندار ہوتے تو انہیں معلوم ہوتایہ لوگ نفسیاتی امراض کانہیں بلکہ بددعاؤں کے شکار ہیں ۔ یہ لوگ قدرت کے انتقام کاشکار ہیں اور قدرت جب انتقام پراترتی ہے تو اسی طرح ذہنوں میں فتور ڈال دیتی ہے ،وہ اسی طرح سوچنے سمجھنے کی قوت چھین لیتی ہے۔


