حالاتِ حاضرہ
ریاستیں کب تباہ ہوتی ہیں؟
- Details
- Category: حالات حاضرہ
- Hits: 936
ریاستیں کب تباہ ہوتی ہیں؟
چینی فلسفی “کنفیوش” ریاست “شان ٹونگ”کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کی ذہانت اورلیاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ محض 24سال کی عمر میں ریاست سونگ کا وزیر قانون اور پھر وزیراعلیٰ مقرر ہوا۔ کنفیوش کی صاف گوئی اورانصاف پسندی سے ریاست کے راجہ اور اس کے بیٹوں کو خوف لاحق ہوگیا تو انہوں نے ریاست سے باہر نکالنے میں اپنی عافیت جانی ۔کنفیوش نے جلا وطنی کے بعد چین کی مختلف ریاستوں کی سیاحت کی اورسرکاری ملازم بھی رہا۔ سرکاری ملازم ہونے کے ناتے اس کی تعلیم کا زیادہ تر تعلق عملی زندگی سے ہے جس میں سچائی ،درمیانہ روی،پاکیزگی اور دیانت داری کو زیادہ دخل ہے۔کنفیوش حکومت اور ملازمت دونوں کا حصہ رہا اس لیے وہ حکومت اور ملازمت دونوں کے آداب سے واقف تھا۔ حکومت میں اختیار حاصل ہوتا ہے اور ملازمت میں اپنا اختیار دوسروں کے حوالے کردیاجاتا ہے۔دونوں کا اپنا الگ الگ دائرہ ہے ۔البتہ حکومت اور ملازمت میں ایک چیز مشترک ہے جسے اعتماد کا نام دیاجاتا ہے ۔حکومت کی ساکھ عوام کی مرہون منت ہوتی ہے اورملازم کی ساکھ مالک کے اعتمادپرقائم ہوتی ہے ۔ کنفیوش سے کسی نے پوچھا :“اچھی حکومت کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں ۔حکمران اچھے کردار کا حامل ہو ۔دفاع مضبوط ہو اور عوام کا حکومت پراعتماد ہو ۔ اس شخص نے اتنا کہا اگر تین ضروری عوامل میں سے کوئی ایک نہ ہو تو کسے ترک کیاجائے؟کنفیوش نے کہا:پہلے کوچھوڑ دو البتہ دفاع مضبوط اور حکومت پرعوام کا اعتماد قائم رہنا چاہیے ۔”اس شخص نے کہا۔“اگر ان دو میں سے ایک نہ ہوتو ؟ کنفیوش نے جواب دیا۔ اگر عوام کا حکومت پر سے اعتماد ختم ہوجائے تو مضبوط سے مضبوط دفاع کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔”
قیام پاکستان سے آج تک پاکستان کے عوام ایسے حکمران کے لیے ترستے رہے جو اچھے کردار کا مالک ہو مگریہاں جادوگروں اور بازی گروں کے ساتھ ہی عوام کا واسطہ رہا۔ طالع آزما آمر کی شکل میں سیاست دانوں کی صورت میں نمودار ہوتے رہے ۔رفتہ رفتہ عوام نے اعلی صفات کے حامل حکمران کے خواب دیکھنا چھوڑ دیے۔آمر سے نجات کے لیے 18فروری 2008ءکو “عوامی اورجمہوری حکومت ” کے قیام کے لیے اپنا حق رائے وہی استعمال کیااور سہانے مستقبل کے خواب دیکھنے لگے۔عوامی حکومت نے ہروہ اقدام کیا جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہو۔گندم اور آٹے کے بحران کا حل اس کی قیمت دوگنا کرکے نکالا گیا۔ پیٹرول کی عالمی قیمتیں بڑھیں تو اس کا بوجھ بھی عوام پرمنتقل کیاگیا۔لیکن جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں 150ڈالر فی بیرل سے 30 ڈالر فی بیرل تک آئیں تو عوام کی چیخ وپکار کے باوجود خاموشی میں عافیت جانی گئی ۔جب شور زیادہ ہوا تو حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے جو ریلیف دیاگیا اسے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہی قرار دیاجاسکتا ہے۔
وفاقی بجٹ 2009ء کی غریب پروری بجٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری کے ساتھ ہی شروع ہوگئی ہے ۔یکم جولائی 2009ء سے پیڑول کی قیمت میں 5.92اور ڈیزل 6.94لیٹر اضافہ کرکے پیٹرول 62.13اور ڈیزل62.65 لیٹر کردیاگیا ہے ۔ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈیزل کی قیمت پیڑول سے بڑھ گئی ہے ۔تیل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ مقتدرین یہ بیان کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی ضروریات کا 80فیصد تیل درآمد کرتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیڑول کا سب سے زیادہ ضیاع حکومت اور اس کے کارندے ہی کرتے ہیں ۔100 کے لگ بھگ وزراء وزرائےمملکت اور مشیران کرام کے علاوہ سینٹ اورقومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں ، ممبران کے پروٹوکول اور دوسری ضروریات کے لیے پانی تو استعمال نہیں ہوتا ۔پروٹوکول کے کاروان میں شامل گاڑیاں کیاعوام کی خدمت میں مصروف ہوتی ہیں ؟عوام کو کفایت شعاری کا سبق دینے والے اپنی مسرفانہ اخراجات کی طرف بھی نظر ڈالیں ۔تیل کی در آمد میں خاصی کمی واقع ہوسکتی ہے مگرایسا کون کرے ؟کروڑوں خرچ کرنے کے بعد اربوں وصول نہ ہوں تو سیاست کا فائدہ کیا؟
سوال یہ ہے کہ کیاصرف پاکستان ہی تیل درآمد کرتا ہے یادوسرے ممالک بھی تیل درآمد کرتے ہیں؟تیل درآمد کرنے والا ممالک صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے 60 ! ممالک اپنی اپنی ضرورت کے مطابق تیل عالمی منڈی سے خریدتے ہیں۔ عالمی منڈی میں روزانہ 84.3 ملین بیرل سے زائد تیل کی خریدوفروخت ہوتی ہے دنیا کے 6ممالک تیل میں خودکفیل ہیں جبکہ 13ممالک تیل درآمد کرتے ہیں ۔27ممالک اپنی ضروریات کا 30سے 50 فیصد،11ممالک 50 فیصد یااس سے کچھ زائد۔
32ممالک 70سے 90 فیصد اور 91ممالک 100فیصد پیڑول درآمد کرتے ہیں ۔جب تیل درآمدکرنے والا ملک صرف پاکستان نہیں اور بھی ممالک ہیں تو پھر مہنگائی کا طوفان صرف پاکستان میں کیوں ؟کیاپیڑول پرپاکستان کی حکومت جتنا ٹیکس وصول کرتی ہے کسی اورملک میں بھی ایسا ہے ؟تو اس کا جواب یقینا نفی میں ہے ۔
اس وقت 2005ء کی ایک رپورٹ میرے سامنے ہے جس کے مطابق اس وقت کی حکومت عالمی منڈی سے 432ڈالر میں فی میٹرک ٹن خام تیل خرید رہی تھی۔ ایک میٹرک ٹن خام تیل سے 1362لیٹر پیٹرول نکلتا ہے۔خام تیل سے پیٹرول کی دس مصنوعات جیٹ آئل، آکٹین پیٹرول ،ڈیزل (ہائی اسپیڈ)، لائٹ ڈیزل،فرانس آئل ،گریس ،بچومن ،لوبر یکنٹ اور تارکول حاصل کی جاتی ہیں۔باقی مصنوعات کو شامل نہ کیاجائے تو پیڑول 18.37فی لیٹر پڑتا تھا اور بازار میں اس وقت 45.60اس کی قیمت تھی ۔گویا 55سے 65 فیصد پیٹرول سے صرف ٹیکس کی مدمیں وصول کررہی تھی۔حکومت نے یکم جولائی سے جواضافہ کیاہے اس کے مطابق حکومتی منافع 43فیصد ہے۔ایک ریفائنری قیمت فی لیٹر 36 روپے 59پیسے فی لیٹر بنتی ہے۔ اس پر 10روپے فی لیٹر کاربن ٹیکس ، اندرون ملک ٹرانسپورٹیشن کی مدمیں 3 روپے 37 پیسے ،ڈیلر زکمیشن 2روپے فی لیٹر آئل مارکٹینگ کمپنیز کاکمیشن ایک روپے 60پیسے جنرل سیلز ٹیکس 16فیصد کے حساب سے 8روپے 57پیسے فی لیٹر چارج ہوگا۔یوں تمام اخراجات کے ساتھ 43روپے 56پیسے فی لیٹر بنتی ہے جبکہ اس پرحکومتی ٹیکسز18روپے 57پیسے فی لیٹر ہیں جو پیٹرول کی قیمت پر 43فیصد بنتی ہے ۔پیٹرولیم کے مشیر ڈاکٹر عاصم حسین کاربن ٹیکس کی مدمیں 22ارب کی آمدنی متوقع ہے ۔ان کے مطابق حکومت کو 10.50فی لیٹر آمدنی ہوگی حالانکہ حقیقی آمدنی اعداد وشمار کے مطابق 18روپے سے زائدہے۔
مقتدرین اور ان کے مشیر 21ویں صدی میں بھی “دروغ گوئی” سے باز نہیں آتے ۔یعنی جوآمدنی 122ارب دکھائی جارہی ہے وہ اس سے تقریبا دگنی ہوگی ۔جس دن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کیاگیا اس دن قومی اسمبلی سے بجٹ کی متفقہ منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے ارکان قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ میں 100فیصد اضافہ کرکے اسے ایک کروڑ سے 2کروڑ کردیا۔پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی بجٹ خسارہ پورا کرنے اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کی جائی گی۔ اوپر ہم نے خام تیل کا تذکرہ کیا اس کی باقی مصنوعات بھی حکومتی منافع اس کے علاوہ ہیں۔
ہمارے مقتدرین نے “میکا ولی”کوبھی مات دے دی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ وہ عوام کو سبسڈی دے رہے ہیں۔گزشتہ 5برسوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں خاصے اضافے کے باوجود حکومت اور تیل کمپنیوں نے 500ارب سے ناجائز منافع کمایا۔ مقتدرین جسے سبسڈی قرار دیتے ہیں،دراصل وہ سبسڈی نہیں ہوتی ۔سبسڈی تو تب ہوتی جب حکومت اپنے خزانے سے کچھ دے ۔ حکومت کو تیل میں اپنا منافع کم کرنا ہوتا ہے ۔منافع کی کمی کون ذی شعور سبسڈی کہے گا ؟اگر سبسڈی دینی بھی پڑ جائے تو کیا یہ عوام کا حق نہیں کہ وہ بھی دو وقت کی روٹی سے اپنے پیٹ کا جہنم بھر سکیں ؟انہیں بھی جینے کا حق ہے یا ان کی قسمت میں خودکشیاں اور خوسوزیاں ہی لکھی ہیں ۔وہ گردے ،آنکھیں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بیچ کر بھی نان جویں کو ترستے رہیں گے ۔پیڑولیم مصنوعات پرٹیکس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر حکومت ان پر ٹیکس نہیں لگائے گی تو اسے اس کمی کوپورا کرنے کے لیے دوسرے ٹیکس لگانے پڑیں گے ؟یقینا کاروبار حکومت چلانے کے لیے حکومت کو ٹیکس لگانے پڑیں تو ٹیکس لگانے سے کون روکتا ہے وہ ضرور لگائے مگر براہ راست ٹیکس کے ذریعے وہ اپنی آمدنی بڑھائے۔مثلا :انکم ٹیکس کے ذریعے وہ آمدنی پر ٹیکس لیتی ہے تو اسی طرح کے دوسرے براہ راست ٹیکس وہ بڑی گاڑیوں پرپیٹرول وڈیزل ٹیکس لگادے ۔ایک کنال اور اس سے بڑے پلاٹوں پرٹیکس عائد کردے ۔دوسرے گھر اور دوسری گاڑیوں پر بھاری ٹیکس کا نفاذ کرے ۔اسی طرح سامان تعیش کی جتنی اشیا ہیں ان پر بھاری ٹیکس لاگو کرےتو خسارہ آسانی سے پورا ہوسکتا ہے مگر پاکستان کی ہرحکومت میں براہ راست ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس زیادہ نافذ کیاجاتا رہا ۔پاکستان میں براہ راست ٹیکس کی شرح حکومتی اعداد وشمار کے مطابق 32فیصد ہے۔اس کامطلب یہ کہ 68 فیصد بالواسطہ ٹیکس ہیں۔انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پرہے جن کی آمدنی سے حکومت ہرماہ براہ راست ٹیکس وصول کرتی ہے ۔غیر جانبدار ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی شرح18 فیصد یااس سےکچھ زائد ہے ۔
عالمی طور پر معاشی جائزہ لیاجائے تو تمام حکومتیں خصوصا ترقی یافتہ حکومتیں براہ راست ٹیکس سے چلتی ہیں جو امرا سے وصول کیاجاتا ہے مگر ہمارے امرا حکومت کا حصہ ہوتے ہیں یا اپوزیشن کا ۔وہ اپنے مفادات کے لیے دو قالب رکھنے کے باوجود یک جان ہوجاتے ہیں۔ اگر حکومت پیٹرول بجلی اور اشیائے ضرور یہ کے نرخ بڑھانے کے بجائے بالائی طبقے سے آمدنی کے مطابق ٹیکس لے تو مہنگائی کا مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے مگر پاکستان میں ایسا سوچنا دیوانگی ہے کیونکہ مراعات یافتہ طبقہ اپنی جیبوں پرہاتھ صاف کرنے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے ؟پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں ،سبزیوں ،اجناس روزمرہ استعمال کی اشیا آٹا چینی ،سامان ،اودیات سمیت ہرچیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں ۔صنعتیں بند ہورہی ہیں ۔بے روزگاری اور مہنگائی کا دوطرفہ عذاب جھیلنے والوں پر پیٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافہ تازیانے سے کم نہیں ۔ماضی قریب میں پیڑول کی قیمتیں پوری دنیا میں بڑھیں مگرمہنگائی کاطوفان صرف پاکستان میں دیکھنے کوملا۔برطانیہ جسے جمہوریت کی ماں کہاجاتا ہے اور اس کی جمہوریت کے راگ الاپے جاتے ہیں وہاں بنیادی اشیائے صرف مثلا ڈبل روٹی اور دودھ وغیرہ میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جو قیمتیں 1967ء میں تھیں وہ اب بھی ہیں ۔مشرق وسطی کے ممالک میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں تھل پتھل دیکھنے میں نہیں آئی۔ امریکا میں اشیائے خودنوش کی قیمتوں میں برسوں استحکام دیکھنے کو ملتا ہے ۔بھارت میں تیل کی قیمتیں بڑھیں مگرکھانےپینے کی اشیاء کی قیمتیں نہیں بڑھیں مگرپاکستان میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں پچھلے 9.8برسوں میں 5سے 10 گناتک اضافہ ہوا۔ پیٹرول اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے وقت مشیران با تدبیر یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ قیمتیں عالمی مارکیٹ اور دوسرے ممالک سے کم ہیں ،اس وقت بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات (پیڑول اور ڈیزل )میں اضافے کی خبر میرے سامنے ہے ۔ جس میں پیڑول 4 روپے اور ڈیزل 2روپے بڑھا ہے ۔اس خبرمیں ہے کہ فی الوقت دہلی میں پیڑول کی قیمت 40روپے 62پیسے اور ڈیزل کی 30 روپے ہے ۔اس سے فرق کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں کی قیمتوں اور بھارت کی قیمتوں میں کتنا فرق ہے ؟اہم بات یہ ہے کہ ان قیمتوں کا بھارت میں دودھ ،آٹے ،سبزیوں ،گھی ،چینی ،چاول اور دالیں مقررہ قیمت پر عوام کو فراہم کی جاتی ہیں اور یہ پاکستان کی نسبت انتہائی ارزان ہیں ۔ہمارے مقتدرین اور ان کے مشیر جن ممالک کا حوالہ دیتے ان کی یومیہ ماہانہ اور سالانہ آمدنی کا تذکرہ کردیا کریں تو لوگوں کے سامنے حقیقت حال واضح ہوجائے گی۔
پاکستان میں محتاط اندازے کے متابق 40سے 55 فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے کنبے کی کفالت کرنے والوں کی یومیہ آمدنی صرف دو ڈالر ہیں۔یورپ میں پست ترین آمدنی ہزار یورو ماہانہ ہے ۔وہاں ہزاروں اگر ایک یورو یا اس سے کچھ زیادہ قیمت پر ملتا ہے تو ہزار یو ر و والے کے لیے ایک یورو فی لیٹر لینا کیا مشکل ہے ؟پاکستان میں 3سے 4 ہزار کمانے والے کے لیے 62،63 روپے فی لیٹر پیٹرول خریدنا استطاعت سے باہر ہے ۔بی ایم ڈبلیو ،لینڈ کروز ر ،پراڈو، لینڈ رواور بلٹ پروف گاریوں اور لیموزین جیسی قیمتی اورآرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے والے سیکرٹریوں سے وزیراعظم تک ایر کنڈیشنڈہالوں میں بیٹھ کر جب غربت کے خاتمے کے دعوے کرتے اور 100روپے بےنظیر انکم سپورٹ فنڈ کے اجرا کے ذریعے غریبوں کی مدد کے نعرے لگاتے ہیں تو ان کی عقل پرماتم کرنے کوجی چاہتا ہے ۔بلٹ پروف گاڑیوں کی قیمت 7سے 10کروڑ اور لیموزین 16کروڑ روپے سے زائد ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکس لگانے والے اورخسارے کا رونا رونے والوں نے ماضی قریب میں 40بلٹ پروف گاڑیوں جن میں 3 لیموزین شامل تھیں ،پرصرف ٹیکس کی مد میں حکومت نے قومی خزانے کو 70کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ۔موجودہ مقتدرین میں سے وزیراعظم نے گزشتہ برس اپنے دوروں پر ہر ماہ11 کروڑ 20لاکھ ماہانہ خرچ کیے یعنی عوامی حکومت کے سالانہ ایک ارب 30کروڑ روپے جبکہ ان کے لیے ہرماہ 80کروڑ روپے مختص تھے مگر انہوں نے 3کروڑ 20لاکھ زائد خرچ کیے ۔موجودہ مالی سال میں 10کروڑ ماہانہ مختص ہوئے ہیں اوریومیہ اخراجات کے لیے 3لاکھ 30ہزار لگ ہیں۔
صدر مملکت کے لیے گزشتہ مالی سال میں مختص رقم دو کروڑ ماہانہ تھی لیکن ان کے غیر ملکی دوروں کی تعداد اور بیرون ملک قیام کے طویل عرصے میں جورقم خرچ ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔اس برس صدر کے دوروں کے لیے 3کروڑ ماہانہ کے علاوہ یومیہ خرچ کی مد میں 10لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ۔ہروزیر کے لیے ایک لاکھ روزانہ قومی اسمبلی کے ہرممبر کے لیے سالانہ 20لاکھ روپے رکھےگئے ہیں ۔تنخواہ اور باقی مراعات اس کے علاوہ ہیں ۔یکم جولائی 2009ء کو ارکان قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز کو ایک کروڑ سے دو کروڑ کر دیا جو عوام کے لیے نہیں بلکہ ان ارکان کو اپنی ترقی کے لیے استعمال ہوں گے۔وفاقی وزیر پر سالانہ 3ارب روپے خرچ ہوں گے ۔صدر کے گزشتہ دورہ امریکی میں دو وفاقی وزرا کے کارناموں کی خبریں میڈیا پرآچکی ہیں ۔انہوں نے جدید لیموزین پردو گھنٹے نیو یارک کی سیر کی جس کافی گھنٹہ کرایہ 500ڈالر تھا ۔16ہزار ڈالر بھارتی رقصاؤں پروارے گئے ۔امریکا کے حوالے سے یہ دوسری خبر بھی ہے کہ حکومت پاکستان نے واشنگٹن میں 9فرموں کی خدمات لاکھوں ڈالر ماہانہ کے عوض اپنی لاہنگ کے لیے حاصل کررکھی ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے (واشنگٹن ) کے مطابق صرف دوکمپنیوں لاگ اور ڈاسٹریٹجیز اور کسیڈی اینڈ ایسویسی ایٹس کی خدمات 75 اور 58 ہزار ڈالر ماہانہ پرحاصل کی گئی ہیں ۔دونوں کی ادائی سالانہ 16لاکھ ڈالر تک پہنچتی ہے ۔اگر باقی سات فرمیں بھی ہیں تو ان کی ادائی بھی لاکھوں ڈالروں میں ہوگی ۔
جس ملک کے حکمرانوں کے طور طریقے یہ ہوں عوام کا ان پر اعتماد کیسے قائم رہ سکتا ہے آج اٹیمی قوت ہونے کے باوجود ہم دفاع پرقدرت نہیں رکھتے ۔ڈرونز ہماری جغرافیائی خود مختاری کا آئے دن مذاق اڑاتے ہیں تو کنفیوش کے بقول اس کی وجہ عوام کا حکومت سے اعتماد ختم ہونا ہے ۔عوام کا اعتماد ختم ہوجائے تو پھر آگے کا منظر مزید بھیانک ہوتا ہے ۔ارسطو سے اسکندر اعظم نے پوچھا تھا: ریاستیں کب تباہ ہوتی ہیں؟ ارسطو نے جواب دیا:جب حکمران عوام کی انتٹریوں کو اپنے دسترخوان پرسجانے لگیں ۔خداکرے ہمارے حکمرانوں کو ہوش آجائے ۔مندرجہ بالا تمام حکومتی وزراتی صدارتی اور سفارتی اخراجات عوام کی انتڑیوں سے دستر خوان سجانے کا عمل نہیں تو اور کیاہے؟
تاریکَیوں کی قید کا ٹوٹے قفس کبھی
اپنے مقدروں کا بھی چمکے کلس کبھی
جوخوش ہیں بے کسوں کو حقارت سے روند کے
تقدیر انہیں خونیں شکنجے میں کس کبھی
سجاد وسیم راجہ
اخبار “ضرب مومن ”
جمعہ 17تاجمعرات 23رجب 1430ھ بمطابق جمعہ 10تاجمعرات 16 جولائی 2009ء


