اسلامی مضامین

اسلامی مضامین

علم دین انسانی روح کی ضرورت ہے

علم دین انسانی  روح کی ضرورت ہے

مفتی رشیداحمد لدھیانوی  صاحب رحمہ اﷲکے ساتھ ربط وتعلق  اور واقفیت  ومحبت بہت قدیم  زمانے  سے تھی۔حضرت کی خدمت میں آمدروفت  بھی رہتی تھی۔حضرت تعلق رکھنے والے پرانے حضرت جانتے ہیں کہ حضرت بہت محبت اور شفقت  فرماتے تھے۔جب بھی میں آتاتو بڑے اہتمام کے ساتھ وقت دیتے تھے ۔شفقت  ومحبت سے گفتگو  فرماتے تھے ۔حضرت کافیض  ہمہ جہتی تھا اور جب  سے یہ (مرکز جامعہ الرشید )قائم ہوا  ہے اس فیض کا ظہور  زیادہ  وسعت کے ساتھ ہوا ہے ۔اس سے پہلے بھی دویاتین  دفعہ احباب کی ملاقات کے لیے آنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن کسی اجتماع  یاکسی جلسے میں شرکت  یاکچھ سننے اور عرض کرنے کی نوبت  نہیں آئی ۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس حیثیت  سے آپ کے سامنے بیٹھا  ہوں ۔یہ ان احباب  کااحسان ہے جنہوں نے مجھے یہاں آنے کے لیے حکم فرمایا وجود یکہ سفروبیان  کا تحمل  نہ تھا مگر دوست احباب کی دعاؤں  اور ان کی محبت سے اﷲتعالی نے کچھ نہ کچھ ہمت وجرات عطا فرمادی ہے ۔بہت مختصر وقت میں صرف عنوانات  کے طور پرچند باتیں عرض کرتا ہوں ۔

Read more: علم دین انسانی روح کی ضرورت ہے

شمع ختم نبوت کا پروانہ


عشق کے رنگ بے شمار ہیں اور اس کی اقسام بے انتہا۔کوئی کسی دل فریب چہرے پرعاشق ہوتا ہے تو کوئی کسی کی خوش آوازی پر،کسی کو کہساروں کی بلندی مسحورکئے رکھتی ہےتو کوئی صحرا کی وسعتوں کے جادو سے مست رہتاہے ،کسی کو دیہات کے سادہ تمدن نے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے تو کوئی شہروں کی خیرہ کن روشنیوں کا دل دادہ ہے ،کوئی اپنے دوست کی دوستی پرجاں نثار کرنے کے لئے تیار رہتاہے تو کوئی اپنے دشمن سے انتقام لینے کے لئے جی رہا ہے ۔حسن جب عقل سلب کرلے تو اس کیفیت کو عشق ہی کہا جاتا ہے ،مناظر قدرت کسی کو بے خود کردیں تو اسے فریفتگی ہی کہا جاسکتا ہے،مقاصد اور اہداف دل ودماغ کی تمام صلا حیتوں کو جذب کرلیں تو اسےجذبہ جنون ہی سے تعبیر کیاجاتا ہے مگر کہنے کو کچھ بھی کہاجائے حاصل سب کا ایک ہے اور وہ ہے عشق ۔عشق کے ہزاروں جلووں کی لاکھوں داستانیں دنیا کے چپے چپے پربکھری ہیں مگران میں اکثر عبرتناک ہیں اور الم ناک ،بہت کم عاشق ایسے ہیں کہ ان کی داستان عشق کسی اعلی مقصد پرمنبی ہو۔ اعلی مقصد سے عشق انسان کو تاریخ میں تابندہ کرجاتاہے ،ایسے عاشقوں کی داستانیں تاریخ کے صفحات پرجگمگاتی رہتی ہیں ۔ان چمکتی دہکتی داستانوں میں ایک نمایاں حصہ ان خوش قسمت عاشقوں کے تذکرے کا ہے جنہیں ختم نبوت سے عشق تھا۔

اس سلسلہ کا ابتدائی سرا14 صدیوں پہلے کے اس دور میں دکھائی دیتاہے جب حضورسیدالمرسلین خاتم النبینﷺ تمام انسانوں کی طرف بعثت کی کٹھن ذمہ داریاں انجام دینے کے لئے کبھی احد میں لہولہان ہورہے تھے اور کبھی خندق میں شکم مبارک پرپتھر باندھے کفار کی فتنہ پرور افواج کامقابلہ کررہے تھے ۔

Read more: شمع ختم نبوت کا پروانہ