اسلامی مضامین

علم دین انسانی روح کی ضرورت ہے

علم دین انسانی  روح کی ضرورت ہے

مفتی رشیداحمد لدھیانوی  صاحب رحمہ اﷲکے ساتھ ربط وتعلق  اور واقفیت  ومحبت بہت قدیم  زمانے  سے تھی۔حضرت کی خدمت میں آمدروفت  بھی رہتی تھی۔حضرت تعلق رکھنے والے پرانے حضرت جانتے ہیں کہ حضرت بہت محبت اور شفقت  فرماتے تھے۔جب بھی میں آتاتو بڑے اہتمام کے ساتھ وقت دیتے تھے ۔شفقت  ومحبت سے گفتگو  فرماتے تھے ۔حضرت کافیض  ہمہ جہتی تھا اور جب  سے یہ (مرکز جامعہ الرشید )قائم ہوا  ہے اس فیض کا ظہور  زیادہ  وسعت کے ساتھ ہوا ہے ۔اس سے پہلے بھی دویاتین  دفعہ احباب کی ملاقات کے لیے آنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن کسی اجتماع  یاکسی جلسے میں شرکت  یاکچھ سننے اور عرض کرنے کی نوبت  نہیں آئی ۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس حیثیت  سے آپ کے سامنے بیٹھا  ہوں ۔یہ ان احباب  کااحسان ہے جنہوں نے مجھے یہاں آنے کے لیے حکم فرمایا وجود یکہ سفروبیان  کا تحمل  نہ تھا مگر دوست احباب کی دعاؤں  اور ان کی محبت سے اﷲتعالی نے کچھ نہ کچھ ہمت وجرات عطا فرمادی ہے ۔بہت مختصر وقت میں صرف عنوانات  کے طور پرچند باتیں عرض کرتا ہوں ۔

آپ جانتے ہیں جس کوہم انسان کہتے ہیں  یہ حقیقت میں دوچیزوں  بدن اور روح کامجموعہ  ہے ۔جب ہم انسان بولتے ہیں تویہی مجموعہ  مراد ہوتا ہے ۔بدن عارضی اورمادی ہے ۔یہ زمین کے اجزا سے اﷲتعالی  نے تیار فرمایا ہے ۔حدیث شریف میں اس کی وضاحت موجود ہے ۔لفظوں کاجوترجمہ  ہم سمجھتے  ہیں انہی لفظوں کے ساتھ ہم اس بات کو اداکرتے ہیں ۔حقیقت وہ ہے جواﷲتعالی کی مراد ہے ۔اس کی حقیقت ہم بیان  نہیں کرسکتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ اﷲتعالی نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھری اور اس مٹی سے آدم علیہ السلام  کایہ وجود بنایا۔ آدم کے وجود میں یہ جومٹی لگی ہوئی ہے خود مشکوة  شریف باب القدر میں روایت  ہے کہ اس میں کچھ سخت تھی ۔کچھ نرم تھی ۔پاک بھی تھی۔ناپاک بھی تھی ۔مختلف  رنگ کی تھی۔اﷲتعالی نے اپنی حکمت  کے تحت ہرقسم کی مٹی اکٹھی کرکے آدم کوبنایا ۔آگے حدیث شریف میں الفاظ ہیں کہ آدم کی اولاد اسی طرح مختلف طبقات میں تقسیم  ہوگئی۔کسی کا مزاج سخت ہے ۔ کسی کا نرم ہے ۔کسی میں پاکیزگی ہے ۔کسی میں شرارت ہے اورکوئی گوراہے اورکوئی کالاہے ۔اﷲتعالی نے اپنی حکمت  کے تحت آدم کے وجود میں یہ ساری چیزیں  جمع کردی تھیں ۔آدم کاوجود ارضی  ہے ۔ جب اس کاوجود بنایا گیایعنی ڈھانچہ  تیار ہوگیا تواس کے بعد اﷲتعالی نے اپنی جانب سے اس کے اندر روح  پھونکی اور روح مادی نہیں ہے و ہمن امرربی ہے عالم بالا کی طرف سے آئی ہے ۔اس کی نسبت  اﷲتعالی کی طرف  ہے زمین کی طرف نہیں ہے ۔دونوں کے مجموعے کوانسان کانام دیاگیا ۔جب یہ انسان بن گیاتوپھر کیسے جنت میں رہا کتنی دیررہا کیسے اس کو نکالاگیا؟کس طرح سے دنیا میں آیا ؟یہ باتیں بہت لمبی ہیں اور اس مجلس  میں کرنے کی نہیں لیکن اتنی  بات بہرحال ہے کہ اﷲتعالی نے اس آدم  کے بدن کی نشوونماکے لیے اس کی ہرضرورت پوراکرنے کی صلاحیت اس زمین میں رکھی ہے ۔بدن خاکی ہے اور ا س کی ضرورت اﷲتعالی نے اس زمین سے پوری فرمائی ہے ۔اس کو خوراک لباس یادواکی ضرورت ہے زمین سے حاصل ہوتی ہیں ۔الغرض جتنی بھی ضروریات ہیں کھانے کی ہیں پینے کی ہیں ۔ پہننے کی ہیں ،رہنے کی ہیں توانائی حاصل کرنے کی ہیں ۔بیماری زائل کرنے کی ہیں،ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی ہیں۔سب اﷲتعالی نے اس زمین سے پوری فرمائیں اوریہ زمین اﷲتعالی کابنایا ہوایسا خزانہ ہے کہ آدم علیہ السلام کے پیداہونے سے لے کر اس وقت تک اولاد آدم اسے کھانے جارہی ہے اور اپنی ضروریات اس سے نکالتی جارہی ہے لیکن یہ زمین جیسی پہلے تھی آج بھی دیسی ہی ہے  اس میں کسی قسم کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی ۔پتا نہیں کتنے عرصے سے اسے کھانا شروع کیاہواہے اورکیا کچھ اس سے نکالتے رہے ہیں؟اصل انسانیت کادارومدار توروح پرہے اوربدن اﷲتعالی نے روح کوزمین پرظاہر کرنے کے لیے ایک کثیف  پردہ کے طور پردیاہے جیسا کہ اﷲتعالی کی عادت  شریفہ  ہے کہ روغن  بادام کوایک پردہ میں بھیجا  آم کےرس کوایک پردہ میں بھیجا اسی طرح روح لطیف ہے اسے بھی اﷲتعالی نے ایک پردہ میں بھیجاتاکہ انسان اپنے آلات کے ذریعے  سے عمل کرے اورکمالات کوحاصل  کرنے کاکوشش کرے ۔بدن اورروح میں سے اصل روح ہے اور بدن اس کی ضرورت  کے لیے ایک سواری کے طور پرہے ۔اس بات کوسمجھا نے کےلیے ایک سواری کے طور پر ہے ۔اس بات کوسمجھا نے کے لیے میں ہمیشہ عرض کیا کرتاہوں کہ روح ہمارے اندر موجود ہے تو ہمارا بدن انسان کہلاتا ہے ۔جب اﷲتعالی اس سے روح کونکال لیتے ہیں تواب وہ انسان نہیں ہوتا انسان کی لاش ہوتی ہے۔ لہذا روح نکل جانے کے بعد بدن کومحفوظ نہیں رکھا جاتا بلکہ  انسان کے شرف  کے طور پراس کو ادب واحترام کے ساتھ  زمین میں لوٹا دیاجاتا ہے کہ جس سے یہ بناتھا ادھر ہی لوٹ گیا۔ منھاخلقناکم وفیھا نعید کم۔

اصل جب روح ہے توجیسے اﷲتعالی نے بدنی ضرورتیں پوری کی ہیں توروح کی ضرورت پورا کرنے کی بھی  کوئی چیز توہونی چاہیے ۔سواﷲتعالی نے اس کے لیے اپنا علم اتار  اور اس کی تعلیم  کے لیے انبیاءعلیہم اشیائے ضرور ت نکالنا مزدوروں کاکام ہے اوریہاں ترقی نیچے سے اوپرکوہوتی ہے جتنا زیادہ انسان زمین کے قریب ہوگا اتنا میلا کچیلا  زیادہ ہوگا اتنا ہی دنیا کے اندربے قدر ہوگا۔جس طرح سے کانیں کھودنے والے اورکاشت کاروں کی حیثیت  ہواکرتی  ہے ۔جتنی یہ چیز آگے  بڑھتی چلی جائے گی اس میں لطافت اور صفائی آتی چلی جائے گی لیکن اﷲکی کتابوں کا معاملہ  اس کے برعکس  ہے کیونکہ  وہ عرش کی طرف سے کرتی ہیں ۔باقی کتابوں کوزیر بحث نہیں لاتا ۔صرف قرآن کریم کوہی لیں  جوروح کی غذاکے طور پرعرش سے اترا ہے ۔جوقرآن کریم  کے الفاظ سے متعلق ہوگاوہ عرش  سے زیادہ قریب ہوگا ۔جتنا ہم دو ر ہٹتے چلے جائیں گے حتی کے صرف ونحو اور اس قسم کی چیزیں  یہ سب ہم قرآن کریم  ہی کے لیے بڑھتے پڑھاتے  ہیں لیکن یہ دور ہوتی چلی جائیں گی ۔گویاکہ افضل ترین  آدمی وہ ہوگا جوقرآن کریم  کی جسے اﷲتعالی سے الفاظ  کے درجے میں اتار اہے ،خدمت  کرے اسے پڑھے تو ایک ایک حرف کی درست  ادائیگی کے ساتھ اوراﷲکاکلام پڑھنے پرجوثواب قرآن کریم میں مذکورہ  ہے اس سے معلوم ہوتاہے جتنا عرش کی طرف زیادہ قریب ہوگا اتناہی اس کی فضیلت زیادہ ہوگی ۔پھر اس کا ترجمہ  ہے اس کے متعلق  احکام کا استنباط ہے پھرحدیث  کے ساتھ اس کی تشریح  ہے پھر اس کی خدمت کے لیے صرف نحو ہےگویا اس کی خدمت کایہ سلسلہ اوپر سے نیچے کوہے جتنا نیچے ہوتے جائیں گے دور ہوتے جائیں گے ۔اﷲکاقرب  حاصل کرنے کاذریعہ  جیساکہ حدیث  شریف میں آتاہے قرآن سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ۔اگرکوئی شخص اﷲکا قرب حاصل کرنا چاہے تو اس کے لیے سب سے اچھا ذریعہ قرآن کریم ہے ۔باقی  انبیاء  کاذکر نہیں کررہا ۔سرورکائنات ﷺاس قرآن کی امانت کولے کرآئے تو اﷲجل شانہ نے ان کوجوشانیں بیان کی ہیں آپ جانتے ہیں کہ ان میں سے پہلے نمبر پرتلاوت کتاب  دوسرے نمبر پر تعلیم کتاب  وحکمت  اورتیسرے نمبرپر تزکیہ ہے ۔یہاں  بھی ابتداء  تلاوت کتاب سے ہوتی ہے اورتلاوت کا تعلق الفاظ کے ساتھ ہے اور آگے تعلیم وحکمت ان الفاظ کے معانی  ومفاہیم  اوران سے احکام کواستنباط اورجوبھی سلسلہ ان سے چلے وغیر ہ کانام ہے اورجوتزکیہ  ہے وہ اس علم کوعمل  میں لانے کی ایک صورت ہے کہ علم میں بتایا کہ نماز پڑھو اورتزکیہ یہ ہے عملا  پڑھ کرسنائی اوردکھائی یہ اس علم کوعمل میں لے آئی اورایسے ہی باقی صورتیں  ہیں۔

ہمارے گزرگوں میں مولانا احمد علی لاہوری  صاحب رحمہ اﷲ ایک بزرگ گزرے ہیں ۔ساری زندگی انہوں نے قرآن کریم کا درس دیا اوراس کے ذریعے لاہورمیں ایک انقلاب  برپا کیالیکن ساتھ ساتھ وہ تزکیہ کی صفت  کے حامل بھی تھے اوراس بات کوسمجھانے کے لیے ایک مثال دیاکرتے تھے جومیں  نے خود ان کی زبانی سنی ہے ۔فرماتے تھے دیکھو ایک ہوتاہے رنگ ساز جورنگ بناتا ہے ایک ہوتا ہے رنگ فروش  جورنگ بیچتا  ہے اورایک ہوتا ہے رنگریزجوکپڑے  کورنگ چڑھاتا ہے ۔فرماتے تھے رنگ بنایا ہواتو اﷲکاہے صبغتہ اﷲ ومن احسن من اﷲ صبفتہ  اوراس رنگ  کوپھیلانے اورفروخت کرنے والے علماء ہیں گویا کہ رنگ علماء سے ملتاہے ۔پڑیا آپ خرید کرلے جائیں لیکن جورنگ چڑھاتا ہے وہ ولی اﷲکا نیک بندہ جس کو اﷲتعالی سے تزکیہ  کے لیے رکھاہے وہ صوفیاء ہیں جو رنگ چڑھانے کا کام خانقاہوں میں کرتے ہیں ۔تعلیم حکمت کاکام مدرسوں میں ہوتا ہے اورتلاوت کے کام کے لیے دارالقرآن بن گئے ۔یہ مختلف شعبے ہوگئے ۔توتزکیہ اس علم کو عمل میں لاکر  انسان کے اوپررنگ  چڑھانے  کانام ہے ۔ سرور کائنات ﷺمیں تینوں صفتین پائی جاتی تھیں اور ان میں جامعیت تھی ۔مجموعی  طورپرامت حضورﷺکی وارث ہے اورآپ کے کام امت کے اندر پائے جاتے ہیں لیکن اب وہ  جامعیت  جوسرورکائنات ﷺمیں تھی  وہ امت کے اندرتقسیم  ہوگئی ۔کسی کے حصے میں تلاوت والی بات آگئی ۔ وہ قرآن کریم کے الفاظ  کاخادم بن گیا اورکسی کے حصے میں تعلیم  کتاب وحکمت آگئی تو کوئی فقہ پڑھا رہا ہے کوئی حدیث کادرس دے رہا ہے اوریہ تعلیم کتاب و حکمت ہے ۔کوئی خانقاہی نظام کولے کربیٹھا ہے جہاں عمل  سکھایا جاتاہے تویہ تزکیہ  ہے جیسا کہ حضرت لاہوری رحمہ اﷲفرماتے ہیں کہ میرے پاس جب لڑکے پڑھنے کے لیے آتے ہیں تو ان میں کئی ایسے ہوتے ہیں جونماز تک کے پابند نہیں ہوتے ۔ ان سے یہ کہا جائے کہ تہجد کی فضیلت  پرتقریر کرو تو 2،3 گھنٹے تقریر جھاڑ دیں گے ۔خوب اچھی طرح سے تہجد کے فضائل بیان کریں گے لیکن جب تہجد کا وقت آئے گا توسوئے سوئے ہوں گے ۔گویاان کے پاس علم تو ہے لیکن عمل نہیں ہے فرماتے تھے جب میرے  پاس 3مہینے  لگا کر فارغ  ہوکر جاتے توتہجد کے پابندہوتے تھے ۔گویا وہ رنگ چڑھ گیاجو ان کو علم کے درجے  حاصل تھا لیکن عمل کے درجے میں وہ اس سے خالی تھے۔(حضرت لاہوری  رحمہ اﷲکا معمول تھاکہ قرآن کریم کاسالانہ  دورہ تفیسر کریا کرتے تھے جو رمضان شریف میں شروع کرکے عیدالاضحی کے موقع پرختم کردیاکرتے تھے اورفارغ التحصیل طلبہ کولیاکرتے تھے ۔)

تویہ تینوں  ہی طبقے سرورکائنات ﷺکے وارث  اورجانشین ہیں۔اﷲچاہے توکسی کودو کا جامع بنادے کہ وہ تعلیم کتاب وحکمت بھی کرے اور تزکیہ بھی کرے ۔وہ تلاوت کتاب کا ماہر بھی ہوا اور الفاظ کے احکام اس کے رسم لخط  اس کی ادائیگی  کے طریقوں سے بھی واقف ہو ۔رسول اﷲﷺحضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے پڑھنے کے طریقے بتائے سات طریقے ہیں جیسا کہ ابھی کے طریقے بتائے سات طریقے ہیں جیسا کہ ابھی مجھ سے پہلے مفتی صاحب بیان فرما رہے  تھے۔حضرت مفتی ابولبابہ شاہ منصور مراد ہیں اس کی اور تفسیریں  پربھی ہیں بہرحال اس میں ایک بات یہ بھی آتی ہے جوعرض کردی ہے ۔

جو قرآن کریم کی خدمت کرنے لگ گئے وہ قاری کہلاتے ہیں اوردوسرا طبقہ  علماکا طبقہ کہلاتا ہے اور تیسرا طبقہ صوفیا ء کا طبقہ کہلاتاہے ۔یہ سارے کے تیسراطبقہ صوفیاء  کاطبقہ کہلاتاہے ۔یہ سارے کے سارے ہی  سرور کائنات  ﷺکے وارث  ہیں اورمجموعی طورپریہ سب مل کرگویاکہ رسول اﷲﷺ کی وارثت  کوسنبھالے ہوئے ہیں ۔اگرآپ تلاوت  کافرض اداکرنے والے حضرات کی تاریخیں  پڑھیں  گے تو آپ کومعلوم ہوگا کہ انہوں نے اپنے آ پ کوبالکل قرآن کریم کی تعلیم میں فناکردیا۔ بعض نے تو الفاظ ہی کی تعلیم میں زندگیا ں کھپا دیں ۔یہ ایک معروف روایت ہے جوآپ سنتے رہتے ہیں خیر کم من تعلم القرآن  وعلمہ اس کے راوی حضرت عثمان رضی اﷲعنہ ہیں  اوران سے نیچے جوراوی  ہیں انہیں ابوعبدالرحمن  کی کنیت سے یادکیاجاتا ہے ۔اس کو روایت  نے اپنی جگہ بٹھا دیا اسی ایک روایت کولے کر بیٹھا ہوا ہوں اور ساری زندگی  میں قرآن سیکھا اورسکھایا یعنی پڑھا اورپڑھایاتوشارحین  لکھتے ہیں کہ ابوعبدلرحمن کے قرآن  پڑھنے کا زمانہ حضرت عثمان رضی اﷲعنہ  سے لے کر حجاج کے زمانے تک ہے ۔ اگرحضرت عثمان  رضی اﷲعنہ  کے زمانے کی ابتدا لی جائے  اورحجاج کے زمانے کی انتہالی جائے تو یہ تقریبا 72سال بنتے ہیں اراگر حضرت عثمان کے زمانے کی انتہا اورحجاج  کے زمانے کی ابتدالی جائی تو یہ تقریبا 35سے لے کر38سال تک بنتے ہیں ۔گویایہ ان کے قرآن پڑھنے  پڑھانے  کی کم وبیش  مدت ہے اگرچہ انہوں نے خود نہیں بتایاکہ انہوں نے کتنا پڑھایا مگر حضرت عثمان رضی اﷲعنہ کے زمانے سے لے کر  حجاج  کے زمانے  تک پڑھانے کاذکر روایت میں موجودہے گویا 38سا ل  سے لے کر 72سال تک انہوں یہ خدمت  انجام دی ۔یعنی اس ایک روایت کہ جوقرآن سیکھے  اورسکھائے  وہ سب سے اچھاہے ۔کااثر لے کربیٹھ گئے اور اپنے آپ کواسی میں کھپا دیا ۔ ایسے ہی تعلیم کتاب وحکمت میں بھی لوگوں نے اپنی زندگیاں  کھپا دیں  اورآج  وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ۔

مسعود  احمد جمیل اعجاز

اخبار“ضرب مومن”

21تا27رجب 1429ھ مطابق 25 تا31 جولائی 2008ء